- Advertisement -

چوری

ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو

چوری

سکول کے تین چار لڑکے الاؤ کے گرد حلقہ بنا کربیٹھ گئے۔ اور اس بوڑھے آدمی سے جو ٹاٹ پر بیٹھا اپنے استخوانی ہاتھ تاپنے کی خاطر الاؤ کی طرف بڑھائے تھا کہنے لگے

’’بابا جی کوئی کہانی سنائیے؟‘‘

مردِ معمر نے جو غالباً کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ اپنا بھاری سر اٹھایا جو گردن کی لاغری کی وجہ سے نیچے کو جھکا ہوا تھا۔

’’کہانی!۔ میں خود ایک کہانی ہُوں مگر۔ ‘‘

اس کے بعد کے الفاظ اس نے اپنے پوپلے منہ ہی میں بڑبڑائے۔ شاید وہ اس جملے کو لڑکوں کے سامنے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا جن کی سمجھ اس قابل نہ تھی کہ وہ فلسفیانہ نکات حل کرسکیں۔ لکڑی کے ٹکڑے ایک شور کے ساتھ جل جل کر آتشیں شکم کو پُر کررہے تھے۔ شعلوں کی عنابی روشنی لڑکوں کے معصوم چہروں پر ایک عجیب انداز میں رقص کررہی تھی۔ ننھی ننھی چنگاریاں سپید راکھ کی نقاب اُلٹ اُلٹ کر حیرت میں سربُلند شعلوں کا منہ تک رہی تھیں۔ بوڑھے آدمی نے الاؤ کی روشنی میں سے لڑکوں کی طرف نگاہیں اٹھا کرکہا۔

’’کہانی۔ ہرروز کہانی!۔ کل سناؤں گا۔ ‘‘

لڑکوں کے تمتماتے ہُوئے چہروں پر افسردگی چھاگئی۔ ناامیدی کے عالم میں وہ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ گویا وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہے تھے۔

’’آج رات کہانی سنے بغیر سونا ہو گا۔ ‘‘

یکایک ان میں سے ایک لڑکا جو دوسروں کی بہ نسبت بہت ہوشیار اور ذہین معلوم ہوتا تھا الاؤ کے قریب سر ک کر بلند آواز میں بولا۔ مگر کل آپ نے وعدہ کیا تھا اور وعدہ خلافی کرنا درست نہیں۔ کیا آپ کو کل والے حامد کا انجام یاد نہیں ہے جو ہمیشہ اپنا کہا بھول جایا کرتا تھا۔ ‘‘

’’درست!۔ میں بھول گیا تھا۔ ‘‘

بوڑھے آدمی نے یہ کہہ کر اپنا سر جھکا لیا۔ جیسے وہ اپنی بھول پر نادم ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ اس دلیر لڑکے کی جرأت کا خیال کرکے مسکرایا۔

’’میرے بچے! مجھ سے غلطی ہو گئی۔ مجھے معاف کردو۔ مگر میں کون سی کہانی سُناؤں؟۔ ٹھہرو۔ مجھے یاد کرلینے دو۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے وہ سر جُھکا کر گہری سوچ میں غرق ہو گیا۔ اسے جِن اور پریوں کی لایعنی داستانوں سے سخت نفرت تھی۔ وہ بچوں کو ایسی کہانیاں سُنایا کرتا تھا۔ جو ان کے دل و دماغ کی اصلاح کرسکیں۔ اسے بہت سے فضول قصے یاد تھے جو اس نے بچپن میں سُنے تھے۔ یا کتابوں میں پڑھے تھے۔ مگر اس وقت وہ اپنے بربط پیری کے بوسیدہ تار چھیڑ رہا تھا کہ شاید ان میں کوئی خوابیدہ راگ جاگ اٹھے۔ لڑکے بابا جی کو خاموش دیکھ کر آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگے۔ غالباً اس لڑکے کی بابت جسے کتاب چُرانے پر بید کی سزا ملی تھی۔ باتوں باتوں میں ان میں سے کسی نے بلند آواز میں کہا۔

’’ماسٹر جی کے لڑکے نے بھی تو میری کتاب چُرالی تھی۔ مگر اسے سزا ذرا نہ ملی۔ ‘‘

’’کتاب چُرا لی تھی۔ ‘‘

ان چار لفظوں نے جوبلند آواز میں ادا کیے گئے تھے۔ بوڑھے کی خفتہ یاد میں ایک واقعہ کو جگا دیا۔ اس نے اپنا سپید سر اٹھایا اور اپنی آنکھوں کے سامنے بُھولی بسری داستان کو انگڑائیاں لیتے پایا۔ ایک لمحہ کے لیے اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہُوئی۔ مگر وہیں غرق ہو گئی۔ اضطراب کی حالت میں اس نے اپنے نحیف جسم کو جنبش دے کر الاؤ کے قریب کیا۔ اس کے چہرے کے تغیر و تبدل سے صاف طور پر عیاں تھا۔ کہ وہ کسی واقعہ کو دوبارہ یاد کرکے بہت تکلیف محسوس کررہا ہے۔ الاؤ کی روشنی بدستور لڑکوں کے چہروں پر ناچ رہی تھی۔ دفعتاً بوڑھے نے آخری ارادہ کرتے ہوئے کہا:

’’بچو! آج میں اپنی کہانی سُناؤں گا۔ ‘‘

لڑکے فوراً اپنی باتیں چھوڑ کر ہمہ تن گوش ہو گئے۔ الاؤ کی چٹختی ہوئی لکڑیاں ایک شورکے ساتھ اپنی اپنی جگہ پر ابھر کر خاموش ہو گئیں۔ ایک لمحہ کے لیے فضا پر مکمل سکوت طاری رہا۔

’’بابا جی اپنی کہانی سنائیں گے؟‘‘

ایک لڑکے نے خوش ہوکرکہا۔ باقی سرک کر آگ کے قریب خاموشی سے بیٹھ گئے۔

’’ہاں، اپنی کہانی۔ ‘‘

یہ کہہ کر بوڑھے آدمی نے اپنی جھکی ہُوئی گھنی بھوؤں میں سے کوٹھڑی کے باہر تاریکی میں دیکھنا شروع کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ لڑکوں سے پھرمخاطب ہُوا۔

’’میں آج تمہیں اپنی پہلی چوری کی داستان سُناؤں گا۔ ‘‘

لڑکے حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ انھیں اِس بات کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ کہ بابا جی کسی زمانہ میں چوری بھی کرتے رہے ہیں۔ بابا جی جو ہر وقت انھیں بُرے کاموں سے بچنے کے لیے نصیحت کیا کرتے ہیں۔ لڑکا جو اِن میں دلیر تھا۔ اپنی حیرت نہ چُھپا سکا۔

’’پر کیا آپ نے واقعی چوری کی؟‘‘

’’واقعی!‘‘

’’آپ اُس وقت کس جماعت میں پڑھا کرتے تھے؟‘‘

’’نویں میں۔ ‘‘

یہ سُن کر لڑکے کی حیرت اور بھی بڑھ گئی۔ اسے اپنے بھائی کا خیال آیا جو نویں جماعت میں تعلیم پارہا تھا وہ اس سے عمرمیں دوگنا بڑا تھا۔ اس کی تعلیم اس سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ انگریزی کی کئی کتابیں پڑھ چکا تھا۔ اور اسے ہر وقت نصیحتیں کیا کرتا تھا۔ یہ کیوں کر ممکن تھا کہ اس عمر کا اور اچھا پڑھا لکھا لڑکا چوری کرے؟۔ اس کی عقل اس معمہ کو حل نہ کرسکی۔ چنانچہ اس نے پھر سوا ل کیا۔

’’آپ نے چوری کیوں کی؟‘‘

اس مشکل سوال نے بڈھے کو تھوڑی دیر کے لیے گھبرا دیا۔ آخر وہ اس کا کیا جواب دے سکتا تھا کہ فلاں کام اس نے کیوں کیا؟ بظاہر اس کا جواب یہی ہوسکتا تھا۔

’’اس لیے کہ اس وقت اس کے دماغ میں یہی خیال آیا۔ ‘‘

اس نے دل میں یہی جواب سوچا۔ مگر اس نے مطمئن نہ ہو کر یہ بہتر خیال کیا کہ تمام داستان من و عن بیان کردے۔

’’اس کا جواب میری کہانی ہے۔ جو میں اب تمہیں سنانے والا ہوں۔ ‘‘

’’سُنائیے؟‘‘

لڑکے اس بوڑھے آدمی کی چوری کا حال سننے کے لیے اپنی اپنی جگہ پر جم کر بیٹھ گئے۔ جو الاؤ کے سامنے اپنے سپید بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کررہا تھا۔ اور جیسے وہ ایک بہت بڑا آدمی خیال کرتے تھے۔ بڈھا کچھ عرصے تک اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔ پھر اس بُھولے ہوئے واقعہ کے تمام منتشر ٹکڑے فراہم کرکے بولا:۔

’’ہر شخص خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کرتا ہے جس پر وہ تمام عمر نادم رہتا ہے۔ میری زندگی میں سب سے بُرا فعل ایک کتاب کی چوری ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ رک گیا۔ اس کی آنکھیں جو ہمیشہ چمکتی رہتی تھیں۔ دُھندلی پڑ گئیں۔ اس کے چہرے کی تبدیلی سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس واقعہ کو بیان کرتے ہُوئے زبردست ذہنی تکلیف کا سامنا کررہا ہے۔ چند لمحات کے توقف کے بعد وہ پھر بولا:۔

’’سب سے مکروہ فعل کتاب کی چوری ہے۔ یہ میں نے ایک کتب فروش کی دکان سے چُرائی۔ یہ اس زمانہ کا ذکر ہے۔ جب میں نویں جماعت میں تعلیم پاتا تھا۔ قدرتی طور پر جیسا کہ اب تمہیں کہانی سننے کا شوق ہے مجھے افسانے اور ناول پڑھنے کا شوق تھا۔ دوستوں سے مانگ کر یا خود خرید کر میں ہر ہفتے ایک نہ ایک کتاب ضرور پڑھا کرتا تھا۔ وہ کتابیں عموماً عشق و محبت کی بے معنی داستانیں یا فضول جاسوسی قصے ہُوا کرتے تھے۔ یہ کتابیں میں ہمیشہ چھپ چھپ کر پڑھا کرتا تھا۔ والدین کو اس بات کا علم نہ تھا۔ اگر انھیں معلوم ہوتا تو وہ مجھے ایسا ہرگز ہرگز نہ کرنے دیتے۔ اس لیے کہ اس قسم کی کتابیں اسکول کے لڑکے کے لیے بہت نقصان دہ ہوتی ہیں۔ میں ان کے مہلک نقصان سے غافل تھا۔ چنانچہ مجھے اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔ میں نے چوری کی اور پکڑا گیا۔ ‘‘

ایک لڑکے نے حیرت زدہ ہو کرکہا۔

’’آپ پکڑے گئے؟‘‘

’’ہاں پکڑا گیا۔ چونکہ میرے والدین اس واقعہ سے بالکل بے خبر تھے۔ یہ عادت پکتے پکتے میری طبیعت بن گئی۔ گھر سے جتنے پیسے ملتے ہیں انھیں جوڑ جوڑ کر بازار سے افسانوں کی کتابیں خریدنے میں صرف کردیتا۔ اسکول کی پڑھائی سے رفتہ رفتہ مجھے نفرت ہونے لگی۔ ہر وقت میرے دل میں یہی خیال سمایا رہتا کہ فلاں کتاب جو فلاں ناول نویس نے لکھی ہے ضرور پڑھنی چاہیے۔ یا فلاں کتب فروش کے پاس نئی ناولوں کا جو ذخیرہ موجود ہے۔ ایک نظر ضرور دیکھنا چاہیے۔ شوق کی یہ انتہا دوسرے معنوں میں دیوانگی ہے۔ اس حالت میں انسان کو معلوم نہیں ہوتا۔ کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔ یا کیا کررہا ہے۔ اس وقت وہ بے عقل بچے کے مانند ہوتا ہے جو اپنی طبیعت خوش کرنے یا شوق پورا کرنے کے لیے جلتی ہوئی آگ میں بھی ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ اسے یہ پتہ نہیں ہوتا کہ چمکنے والی شے جسے وہ پکڑ رہا ہے اس کا ہاتھ جلا دے گی۔ ٹھیک یہی حالت میری تھی۔ فرق اتنا ہے کہ بچہ شعور سے محروم ہوتا ہے۔ اس لیے وہ بغیر سمجھے بُوجھے بُری سے بُری حرکت کربیٹھتا ہے مگر میں نے عقل کا مالک ہوتے ہُوئے چوری ایسے مکروہ جُرم کا ارتکاب کیا۔ یہ آنکھوں کی موجودگی میں میرے اندھے ہونے کی دلیل ہے۔ میں ہرگز ایسا کام نہ کرتا۔ اگر میری عادت مجھے مجبور نہ کرتی۔ ہر انسان کے دماغ میں شیطان موجود ہوتا ہے۔ جو وقتاً فوقتاً اسے بُرے کاموں پر مجبور کرتا ہے۔ یہ شیطان مجھ پر اس وقت غالب آیا جبکہ سوچنے کے لیے میرے پاس بہت کم وقت تھا۔ خیر‘‘

لڑکے خاموشی سے بوڑھے کے ہلتے ہوئے لبوں کی طرف نگاہیں گاڑے ان کی داستان سن رہے تھے۔ داستان کا تسلسل اس وقت ٹوٹتا دیکھ کر جب کہ اصل مقصد بیان کیا جانے والا تھا۔ وہ بڑی بے قراری سے بقایا تفصیل کا انتظار کرنے لگے۔

’’مسعود بیٹا! یہ سامنے والا دروازہ تو بند کردینا۔ سرد ہوا آرہی ہے۔ ‘‘

بوڑھے نے اپنا کمبل گھٹنوں پرڈال لیا۔ مسعود،

’’اچھا بابا جی۔ ‘‘

کہہ کر اٹھا اور کوٹھڑی کا دروازہ بند کرنے کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔

’’ہاں تو ایک دن جبکہ والد گھر سے باہر تھے۔ ‘‘

بوڑھے نے اپنی داستان کا بقایا حصہ شروع کیا۔

’’مجھے بھی کوئی خاص کام نہ تھا۔ اور وہ کتاب جو میں ان دنوں پڑھ رہا تھا ختم ہونے کے قریب تھی۔ اس لیے میرے جی میںآئی کہ چلو اس کتب فروش تک ہو آئیں۔ جس کے پاس بہت سی جاسوسی ناولیں پڑی تھیں۔ میری جیب میں اس وقت اتنے پیسے موجود تھے۔ جو ایک معمولی ناول کے دام ادا کرنے کے لیے کافی ہوں۔ چنانچہ میں گھر سے سیدھا اس کتب فروش کی دکان پر گیا۔ یوں تو اس دکان پر ہر وقت بہت سی اچھی اچھی ناولیں موجود رہتی تھیں۔ مگر اس دن خاص طور پر بالکل نئی کتابوں کا ایک ڈھیر باہر تختے پر رکھا تھا۔ ان کتابوں کے رنگ برنگ سرِورق دیکھ کر میری طبیعت میں ایک ہیجان سا برپا ہو گیا۔ دل میں اس خواہش نے گدگدی کی کہ وہ تمام میری ہو جائیں۔ میں دکاندار سے اجازت لے کر ان کتابوں کو ایک نظر دیکھنے میں مشغول ہو گیا۔ ہر کتاب کے شوخ رنگ سرورق پر اس قسم کی کوئی نہ کوئی عبارت لکھی ہُوئی تھی۔

’’ناممکن ہے کہ اس کا مطالعہ آپ پر سنسنی طاری نہ کردے۔ ‘‘

’’مصور اسرار کا لاثانی شاہکار۔ ‘‘

’’تمثیل!ہیجان!!رومان!!!۔ سب یکجا۔ ‘‘

اس قسم کی عبارتیں شوق بڑھانے کے لیے کافی تھیں۔ مگر میں نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ اس لیے کہ میری نظروں سے اکثر ایسے الفاظ گزر چکے تھے۔ میں تھوڑا عرصہ کتابوں کو الٹ پلٹ کردیکھتا رہا۔ اس وقت میرے دل میں چوری کرنے کا خیال مطلقاً نہ تھا۔ بلکہ میں نے خریدنے کے لیے ایک کم قیمت کی ناول چن کر الگ بھی رکھ لی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد دل میں یہ ارادہ کرکے میں دوسرے ہفتے ان ناولوں کو دوبارہ دیکھنے آؤں گا۔ میں نے اپنی چُنی ہُوئی کتاب اُٹھائی۔ کتاب کا اٹھانا تھا کہ میری نگاہیں ایک مجلد ناول پر گڑ گئیں۔ سرِ ورق کے کونے پر میرے محبوب ناولسٹ کا نام سُرخ لفظوں میں چھپا تھا۔ اس کے ذرا اوپر کتاب کا نام تھا۔

’’منتقم شعاعیں۔ کس طرح ایک دیوانے ڈاکٹر نے لندن کو تباہ کرنے کا ارادہ کیا۔ ‘‘

یہ سطور پڑھتے ہی میرے اشتیاق میں طغیانی سی آگئی۔ کتاب کا مصنف وہی تھا۔ جس نے اس سے پیشتر مجھ پر راتوں کی نیند حرام کر رکھی تھی۔ ناول کو دیکھتے ہی میرے دماغ میں خیالات کا ایک گروہ داخل ہو گیا۔

’’منتقم شعاعیں۔ دیوانے ڈاکٹرکی ایجاد۔ کیسا دلچسپ افسانہ ہو گا!‘‘

’’لندن تباہ کرنے کا ارادہ۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟‘‘

’’اس مصنف نے فلاں فلاں کتابیں کتنی سنسنی خیز لکھی ہیں!‘‘

’’یہ کتاب ضرور ان سب سے بہتر ہو گی!‘‘

میں خاموش اشتیاق کے ساتھ اس کتاب کی طرف دیکھ رہا تھا اور یہ خیالات یکے بعد دیگرے میرے کانوں میں شور برپا کررہے تھے۔ میں نے اس کتاب کو اُٹھایا اور کھول کر دیکھا توپہلے ورق پر یہ عبارت نظر آئی۔

’’مصنف اس کتاب کو اپنی بہترین تصنیف قرار دیتاہے۔ ‘‘

’’ان الفاظ نے میرے اشتیاق میں آگ پر ایندھن کا کام دیا۔ ایکا ایکی میرے دماغ کے خدا معلوم کس گوشے سے ایک خیال کود پڑا۔ وہ یہ کہ میں اس کتاب کو اپنے کوٹ میں چھپا کر لے جاؤں۔ میری آنکھیں بے اختیار کتب فروش کی طرف مڑیں۔ جو کاغذ پر کچھ لکھنے میں مشغول تھا۔ دوکان کی دوسری طرف دو نوجوان کھڑے میری طرح کتابیں دیکھ رہے تھے۔ میں سر سے پیر تک لرز گیا۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے بوڑھے کا نحیف جسم اس واقعہ کی یاد سے کانپا۔ تھوڑی دیر تک خاموش رہ کر اس نے پھر اپنی داستان شروع کردی۔

’’ایک لحظہ کے لیے میرے دماغ میں یہ خیال پیدا ہوا کہ چوری کرنا بہت بُرا کام ہے مگر ضمیر کی آواز سرورق پر بنی ہوئی لانبی لانبی شعاعوں میں غرق ہو گئی۔ میرا دماغ

’’منتقم شعاعیں‘‘

’’منتقم شعاعیں‘‘

کی گردان کررہا تھا۔ میں نے اِدھر اُدھر جھانکا اور جھٹ سے وہ کتاب کوٹ کے اندر بغل میں دبا لی مگر میں کانپنے لگا۔ اس حالت پر قابو پا کر میں کتب فروش کے قریب گیا۔ اور اُس کتاب کے دام ادا کردیئے۔ جو میں نے پہلے خریدی تھی۔ قیمت لیتے وقت اور روپے میں سے باقی پیسے واپس کرنے میں اس نے غیر معمولی تاخیر سے کام لیا۔ میری طرف اس نے گُھور کربھی دیکھا۔ جس سے میری طبیعت سخت پریشان ہو گئی۔ جی میں بھی آئی کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کروہاں سے بھاگ نکلوں۔ میں نے اس دوران میں کئی بار اس جگہ پر جو کتاب کی وجہ سے اُبھری ہُوئی تھی نگاہ ڈالی۔ اور شاید اسے چھپانے کی بے سود کوشش بھی کی۔ میری ان عجیب و غریب حرکتوں کو دیکھ کر اسے شک ضرور ہُوا۔ اسے لیے کہ وہ بار بار کچھ کہنے کی کوشش کرکے پھر خاموش ہو جاتا تھا۔ میں نے باقی پیسے جلدی سے لیے اور وہاں سے چل دیا۔ دو سو قدم کے فاصلے پر میں نے کسی کی آواز سنی۔ مڑ کر دیکھا تو کتب فروش ننگے پاؤں چلا آرہا تھا اور مجھے ٹھہرنے کے لیے کہہ رہا تھا۔ میں نے اندھا دھند بھاگناشروع کردیا۔ مجھے معلوم نہ تھا میں کدھر بھاگ رہاہوں۔ میرا رخ اپنے گھر کی جانب نہ تھا۔ میں شروع ہی سے اس طرف بھاگ رہا تھا جدھر بازار کا اختتام تھا۔ اس غلطی کا مجھے اس وقت احساس ہوا جب دو تین آدمیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ ‘‘

بوڑھا اتنا کہہ کر اضطراب کی حالت میں اپنی خشک زبان لبوں پر پھیرنے لگا۔ کچھ توقف کے بعد وہ ایک لڑکے سے مخاطب ہوا۔

’’مسعود! پانی کا ایک گھونٹ پلوانا۔ ‘‘

مسعود خاموشی سے اُٹھا۔ اورکوٹھڑی کے ایک کونے میں پڑے ہوئے گھڑے سے گلاس میں پانی انڈیل کر لے آیا۔ بوڑھے نے گلاس لیتے ہی منہ سے لگا لیا اور ایک گھونٹ میں سارا پانی پی گیا۔ اور خالی گلاس زمین پر رکھتے ہوئے کہا۔

’’ہاں میں کیا بیان کررہا تھا؟‘‘

ایک لڑکے نے جواب دیا۔

’’آپ بھاگے جارہے تھے۔ ‘‘

’’میرے پیچھے کتب فروش

’’چور چور‘‘

کی آواز بلند کرتا چلا آرہا تھا جب میں نے دو تین آدمیوں کو اپنا تعاقب کرتے دیکھا تو میرے ہوش ٹھکانے نہ رہے۔ جیل کی آہنی سلاخیں، پولیس اور عدالت کی تصویریں ایک ایک کرکے میری آنکھوں کے سامنے آگئیں۔ بے عزتی کے خیال سے میری پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ میں لڑکھڑایا اور گِر پڑا۔ اُٹھنا چاہا تو ٹانگوں نے جواب دے دیا۔ اس وقت میرے دماغ کی عجیب حالت تھی۔ ایک تُند دھواں سا میرے سینے میں کروٹیں لے رہا تھا۔ آنکھیں فرطِ خوف سے اُبل رہی تھیں۔ اورکانوں میں ایک زبردست شور برپا تھا۔ جیسے بہت سے لوگ آہنی چادریں ہتھوڑوں سے کوٹ رہے ہیں۔ میں ابھی اُٹھ کر بھاگنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ کتب فروش اور اسکے ساتھیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ اس وقت میری کیا حالت تھی۔ اس کا بیان کرنا بہت دشوار ہے۔ سینکڑوں خیالات پتھروں کی طرح میرے دماغ سے ٹکرا ٹکرا کر مختلف آوازیں پیدا کررہے تھے۔ جب انھوں نے مجھے پکڑا تو ایسا معلوم ہوا کہ آہنی پنجہ نے میرے دل کو مسل ڈالا ہے۔ میں بالکل خاموش تھا۔ وہ مجھے دُکان کی طرف کشاں کشاں لے گئے۔ جیل خانے کی کوٹھڑی اور عدالت کا منہ دیکھنا یقین تھا۔ اس خیال پر میرے ضمیر نے لعنت ملامت شروع کردی۔ چونکہ اب جوہونا تھا ہو چکا تھا۔ اور میرے پاس اپنے ضمیر کو جواب دینے کے لیے کوئی الفاظ موجود نہ تھے۔ اس لیے میری گرم آنکھوں میں آنسو اُتر آئے اور میں نے بے اختیار رونا شروع کردیا۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے بوڑھے کی دُھندلی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔

’’کتب فروش نے مجھے پولیس کے حوالے نہ کیا۔ اپنی کتاب لے لی اور نصیحت کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔ ‘‘

بوڑھے نے اپنے آنسو کُھردرے کمبل سے خشک کیے۔

’’خدا اُس کو جزائے خیر دے۔ میں عدالت کے دروازے سے تو بچ گیا۔ مگر اس واقعہ کی والد اور اسکول کے لڑکوں کو خبر ہو گئی۔ والد مجھ پر سخت خفا ہُوئے لیکن انھوں نے بھی اخیر میں مجھے معاف کردیا۔ دو تین روز مجھے اس ندامت کے باعث بخار آتا رہا اس کے بعد جب میں نے دیکھا میرا دل کسی کروٹ آرام نہیں لیتا اور مجھ میں اتنی قوت نہیں کہ میں لوگوں کے سامنے اپنی نگاہیں اٹھا سکوں۔ تو میں شہر چھوڑ کروہاں سے ہمیشہ کے لیے روپوش ہو گیا۔ اس وقت سے لیکر اب تک میں نے مختلف شہروں کی خاک چھانی ہے۔ ہزاروں مصائب برداشت کیے ہیں۔ صرف اس کتاب کی چوری کی وجہ سے جومجھے تا دمِ مرگ نادم و شرمسار رکھے گی۔ اس آوارہ گردی کے دوران میں، میں نے اور بھی بہت سی چوریاں کیں۔ ڈاکے ڈالے اور ہمیشہ پکڑا گیا۔ مگر اُن پر نادم نہیں ہُوں۔ مجھے فخر ہے۔ ‘‘

بوڑھے کی دُھندلی آنکھوں میں پھر پہلی سی چمک نمودار ہو گئی۔ اور اس نے الاؤ کے شعلوں کو ٹکٹکی باندھ کردیکھنا شروع کردیا۔

’’ہاں مجھے فخر ہے۔ ‘‘

یہ لفظ اس نے تھوڑے توقف کے بعد دوبارہ کہے۔ الاؤمیں آگ کا ایک شعلہ بُلند ہوا۔ اور ایک لمحہ فضا میں تھرتھرا کر وہیں سو گیا۔ بوڑھے نے شعلے کی جرأت دیکھی اور مسکرا دیا۔ پھر لڑکوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگا۔

’’کہانی ختم ہو گئی اب تم جاؤ۔ تمہارے ماں باپ انتظار کرتے ہونگے۔ ‘‘

مسعود نے سوال کیا۔

’’مگر آپ کو اپنی دوسری چوریوں پر کیوں فخر ہے؟‘‘

’’فخر کیوں ہے؟‘‘

۔ بوڑھا مسکرا دیا۔

’’اس لیے کہ وہ چوریاں نہیں تھیں۔ اپنی مسروقہ چیزوں کودوبارہ حاصل کرنا چوری نہیں ہوتی میرے عزیز! بڑے ہو کرتمہیں اچھی طرح معلوم ہو جائے گا۔ ‘‘

’’میں سمجھا نہیں۔ ‘‘

’’ہروہ چیز جو تم سے چُرا لی گئی ہے، تمہیں حق حاصل ہے کہ اسے ہر ممکن طریقہ سے اپنے قبضہ میں لے آؤ۔ پر یاد رہے تمہاری کوشش کامیاب ہونی چاہیے۔ ورنہ ایسا کرتے ہوئے پکڑے جانا اور اذیتیں اُٹھانا عبث ہے۔ ‘‘

لڑکے اٹھے اور بابا جی کو شب بخیر کہتے ہوئے کوٹھڑی کے دروازہ سے باہر چلے گئے۔ بوڑھے کی نگاہیں ان کو تاریکی میں گم ہوتے دیکھتی رہیں۔ تھوڑی دیر اسی طرح دیکھنے کے بعد وہ اٹھا اور کوٹھڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے بولا:۔

’’کاش کہ یہ بڑے ہو کر اپنی کھوئی ہُوئی چیز واپس لے سکیں۔ ‘‘

بوڑھے کو خدا معلوم ان لڑکوں سے کیا امید تھی؟‘‘

سعادت حسن منٹو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Mazmoon By Aamir Nazeer