آپ کا سلاماردو تحاریرشاہد نسیم چوہدری

پندرہ سوسالہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ

نعتیہ مشاعرہ کی روح پرور تقریب

پندرہ سوسالہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ ، آٹھواں سالانہ عرسِ مبارک فقیرِ مصطفیٰ ملک امیر نواز اعوان اور 268 واں ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ کی روح پرور تقریب

الحمدللہ! یہ فضلِ خداوندی اور کرمِ مصطفوی ﷺ ہے کہ انجمن فقیرانِ مصطفیٰ فیصل آباد نے اپنی عظیم روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بیک وقت تین مبارک تقاریب کو یکجا کر کے ایک ایسی بزم سجائی جس میں عشق و محبت کے چشمے بہتے ہوئے محسوس ہوئے۔ 22 ستمبر 2025ء بروز پیر، اسلامی چوک، سول کواٹر غلام محمد آباد فیصل آباد کے قلب میں واقع ’’اعوان نعت محل‘‘ ایک بار پھر ذکرِ رسول ﷺ کی خوشبو سے معطر ہوا۔
یہ محفل اپنے دامن میں کئی رنگ سمیٹے ہوئے تھی۔ ایک طرف فقیرِ مصطفیٰ ملک امیر نواز اعوان رحمۃ اللہ علیہ کا آٹھواں سالانہ عرس مبارک تھا تو دوسری جانب پندرہ سو سالہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی ضیافتِ عشق۔ ان دونوں مقدس مواقع کو چار چاند لگاتا 268 واں طرحی نعتیہ مشاعرہ تھا جو انجمن فقیرانِ مصطفیٰ کی دیرینہ محنت اور مسلسل عشق کا مظہر ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ تقریب ایمان، ادب، تاریخ اور روحانیت کا حسین امتزاج بن کر سامنے آئی۔
فضا میں محبت کے چراغ۔اس دن اعوان نعت محل کا ہر گوشہ چراغاں تھا۔ صحن میں روشنیوں کی جھلملاہٹ، دیواروں پر سجے سبز پرچم اور در و بام سے جھانکتی محبت کی کرنیں اس امر کی گواہی دے رہی تھیں کہ یہ صرف ایک محفل نہیں بلکہ ایک عہدِ نو کی تجدید ہے۔ حاضرین عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے جام سے سرشار اور ذکرِ اولیاء کے نغموں سے محظوظ ہو رہے تھے۔ جو بھی وہاں داخل ہوتا، اس کے دل کی دنیا بدل جاتی۔یہ محفل کسی رسمی اجتماع کا نام نہ تھی، بلکہ ایک زندہ احساس، ایک دھڑکتی ہوئی دھڑکن، ایک بہتا ہوا دریا تھی جس کے کناروں پر کھڑے عاشقانِ رسول ﷺ اپنے اپنے انداز میں محبت کے موتی پرو رہے تھے۔
آغازِ بزم۔تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت فقیرِ مصطفیٰ امیر رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے محمد صائم نواز نے حاصل کی۔ ان کی معصوم آواز نے قرآن کے نور کو قلوب میں اتار دیا۔ اس کے بعد ننھے خوش نوا بچوں محمد عیسیٰ نواز اور امیر نواز نے نعتوں کے نغمے گنگنا کر محفل کو مہکا دیا۔ گویا بچپن کی سادگی اور عشق کی لطافت نے مل کر ایک ایسا منظر تخلیق کیا جو حاضرین کی آنکھوں کو اشکبار اور دلوں کو قرار عطا کر گیا۔بعد ازاں معروف نعت خواں محمد وسیم چشتی اور ذیشان حسینی نے ترنم کے ساتھ کلامِ نعت پیش کیا۔ ان کے خوش الحان لہجوں نے محفل کی فضا کو مزید وجدانی بنا دیا۔
صدارت و مہمانانِ خصوصی۔اس بزم کی صدارت ملک کے نامور محقق اور نعت گو شاعر پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید نے کی۔ ان کی موجودگی نے محفل کو ایک علمی وقار اور ادبی جلال بخشا۔
مہمانانِ خصوصی میں پروفیسر سید شاہد حسین شاہد گیلانی، پروفیسر ڈاکٹر طاہر صدیقی، پروفیسر ریاض احمد قادری اور ناصر حسین راضی شامل تھے۔ یہ سب اہلِ دل اور اہلِ قلم حضرات اس روحانی اجتماع کو رونق بخشنے کے لیے تشریف لائے۔
جبکہ مہمانانِ اعزاز میں شاہد نسیم چوہدری اور ڈاکٹر مقصود احمد عاجز کی موجودگی محفل کے علمی و فکری افق پر ایک اور خوشبو بن کر بکھری۔
محفل کی نقابت معروف شاعر منیر احمد خاور نے نہایت سلیقے اور محبت بھرے انداز میں کی۔ ان کی گفتگو میں ادب کا وقار، عشق کا رنگ اور زبان کی شائستگی جھلکتی رہی۔
طرحی مشاعرہ کی بازگشت
268 واں طرحی نعتیہ مشاعرہ اس محفل کا روحانی محور تھا۔ اس مشاعرہ کے لیے نعتیہ مصرعہ فقیرِ مصطفیٰ امیر نواز اعوان رحمۃ اللہ علیہ کا منتخب کیا گیا:
"مجھ کو خوب لگتی ہے ہر ادا مدینے کی”
یہ مصرعہ ہر شاعر کے لیے گویا چراغِ راہ تھا۔ ہر ایک نے اپنے دل کی کیفیت اور عشقِ رسول ﷺ کے جذبات اس مصرعے میں ڈھالے۔ کسی نے مدینے کے گلی کوچوں کی رونق کو بیان کیا، کسی نے روضۂ اطہر کی زیارت کی تڑپ کو الفاظ میں سمویا، تو کسی نے اپنی عاجزی کو اس مصرعے میں ڈھونڈ لیا۔
راقم الحروف نے بھی اپنا کلام حاضرین کو سنایا
دل کو کھینچ لیتی ہے سب فضا مدینے کی
مجھ کو خوب لگتی ہے ہر ادا مدینے کی
دل کو کر گئی روشن روشنی مدینے کی
جنتوں کے جیسی ہے ہر ادا مدینے کی
چاہتیں نچھاور ہوں مصطفیٰ کے روضے پر
رونقیں دکھیں ہم کو اب سدا مدینے کی
ذکر کی فضا میں ہو ، ہر دعا مدینے کی
عشق مصطفیٰؐ میں ہو جاں فدا مدینے کی
مل رہی ہے امت کو ہر عطا مدینے کی
رحمتوں کی بارش ہے اب سدا مدینے کی
دست بستہ کرتے ہیں التجا مدینے کی
دل کو چین دیتی ہے ہر صدا مدینے کی
دل میں بس گئی اپنے روشنی مدینے کی
تک کے دل مچلتا ہے وہ ضیاء مدینے کی
آنکھ بھیگ جاتی ہے جب کروں میں ذکر نبیؐ
سن کے دل کو بھاتی ہے ہر صدا مدینے کی
انجمن فقیران مصطفی کو ہے سہارا محمد کا
رحمتوں کی ہے برسات ، ان پرسدا مدینے کی
ہے دعا یہ شاہدؔ کی بار ہا خداوند سے
دل سے ہو محبت ناں اب جدا مدینے کی

منقبت کے لیے طرح مصرعہ تھا:
"سرورِ کونین کے شیدا فقیرِ مصطفیٰ”
یہ مصرعہ فقیرِ مصطفیٰ کی حیات و خدمات کو یاد کرنے کا ذریعہ بنا۔ شعرا نے اس مصرعے کے وسیلے سے عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ساتھ اپنے مرشد کی یاد کو بھی زندہ رکھا۔اس محفل میں شعرا کی ایک کہکشاں جگمگا رہی تھی۔ ان میں شامل تھے:ڈاکٹرزاہد سرفراز زاہِدؔ، طارق گوہیر، اشفاق بابر، شفقت علی شفقت گل، عباس علی حیدر، علی رضا عارف، نعیم صدیقی، قاسم رشید ہادی، منیر احمد خاور، سلیم شاہد، سکندر عزیز خان، فقیر حسین چشتی، سرور خان سرور، میاں منیر احمد منیر، شاہد نسیم چوہدری، ناصر حسین راضی، منصور نواز اعوان، محمد عمیر لبریز، سید شاہد حسین شاہد، ڈاکٹر ملک مقصود احمد عاجز، تبسم قادری، طاہر صدیقی، پروفیسر ریاض احمد قادری، محمد جاوید اطہر، امین عزمی اور پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید۔ہر شاعر نے اپنے مخصوص لہجے اور اپنی ذات کے اندر چھپے جذبوں کے ساتھ نعت و منقبت پیش کی۔ محفل میں ہر نئے شعر کے ساتھ سبحان اللہ، ماشاء اللہ اور صلوۃ و سلام کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ یہ صدائیں محض لفظ نہ تھیں بلکہ دلوں کے حال کا بیان تھیں۔
ختمِ پاک، صلواۃ و سلام اور دعا
محفل کے اختتام پر پروفیسر سید شاہد حسین شاہد گیلانی نے ختمِ پاک پڑھا۔ اس کے بعد اجتماعی طور پر صلواۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی یہ آوازیں گویا عرش تک جا رہی تھیں اور رحمت کے دریا بہا رہی تھیں۔آخر میں ناصر حسین راضی نے نہایت رقت آمیز دعا کروائی۔ ہر دل پر یہ کیفیت طاری تھی کہ آج ہماری زندگی کا سب سے حسین لمحہ ہے۔ دعا کے بعد روحانی سکون کی وہ لہر ہر چہرے پر نمایاں تھی جو صرف ذکرِ رسول ﷺ سے میسر آ سکتی ہے۔
اس کے بعد حاضرین کے لیے بہترین لنگر کا اہتمام کیا گیا۔ لنگر کی برکت نے محفل کو ایک اور روحانی رنگ عطا کیا۔ لوگ لقمہ کھاتے ہوئے بھی ذکرِ رسول ﷺ میں مصروف تھے۔محفل کے آخر میں صاحبزادہ منصور نواز اعوان نے تمام مہمانانِ کرام اور شعرا و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے الفاظ محبت اور خلوص سے لبریز تھے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو تاقیامت قائم رکھے اور انجمن فقیرانِ مصطفیٰ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا کرے۔
محفل کا پیغام۔یہ محفل عشقِ رسول ﷺ کی لازوال داستان تھی۔ اس نے ثابت کر دیا کہ جب دلوں میں عشقِ نبی ﷺ کی شمع روشن ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بجھا نہیں سکتی۔ انجمن فقیرانِ مصطفیٰ فیصل آباد کی یہ محفل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نعت صرف شاعری نہیں بلکہ ایمان کی تجدید اور عشق کا عملی اظہار ہے۔
فقیرِ مصطفیٰ ملک امیر نواز اعوان رحمۃ اللہ علیہ کے آٹھویں عرس کے موقع پر یہ اجتماع ان کی خدمات کا بھی اعتراف تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی عشقِ رسول ﷺ کے لیے وقف کی اور آج ان کی یاد اسی محبت کے رنگ میں زندہ ہے۔
یوں 268 واں طرحی نعتیہ مشاعرہ، پندرہ سو سالہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ اور آٹھواں سالانہ عرس فقیرِ مصطفیٰ ایک ایسی یادگار محفل بن کر سامنے آیا جو عرصہ دراز تک دلوں کو گرما کر رکھے گی۔ یہ محفل ایک عہد کی تجدید تھی، عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی آبیاری تھی اور اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک نیا چراغ جلانے کا سبب تھی۔
اللہ تعالیٰ اس محفل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اسی ذکر و فکر کے ساتھ زندہ رہنے کی توفیق عطا کرے۔
آمین یا رب العالمین۔
نوٹ : ڈاکٹر ذاہد سرفراز ذاہد اور ریاض قادری صاحب کی رپورٹ کیلئے معاونت پر ان کا شکر گزار ہوں۔

شاہد نسیم چوہدری

post bar salamurdu

شاہد نسیم چوہدری

2001 سے فیصل آباد سے صحافی، کالم نگار، فیچر رائٹر اور انٹرویور۔ صدر ورلڈ کالمسٹ کلب فیصل آباد ڈویژن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button