آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

بِچھڑا وہ گویا زِیست میں آیا کبھی نہ تھا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

بِچھڑا وہ گویا زِیست میں آیا کبھی نہ تھا
اُس نے مِرے مِزاج کو سمجھا کبھی نہ تھا

لہجے میں اُس کے تُرشی بھی ایسی کبھی نہ تھی
دِل اِس بُری طرح مِرا ٹُوٹا کبھی نہ تھا

گو اِضطراب کی تو نہ تھی وجہ ظاہری
دِل کو مگر قرار کبھی تھا، کبھی نہ تھا

مانا کہ زِندگانی میں آئے، گئے ہیں لوگ
کوئی بھی اُس گلاب نُما سا کبھی نہ تھا

آیا بھی میرے شہر مِلے بِن بھی جا چُکا
جیسا ہُؤا ہوں آج، میں تنہا کبھی نہ تھا

گُھٹنے ہی اُس نے ٹیک دِیئے، ہار مان لی
لوگو! وہ ایک شخص جو ہارا کبھی نہ تھا

راہِ وفا میں دشت بھی تھے، وحشتیں بھی تھیں
گر کچھ نہ تھا تو زلف کا سایہ کبھی نہ تھا

جھیلا ہے درد ہنستے ہوئے، کھیلتے ہوئے
کیا شخص تھا جو شِکوہ سراپا کبھی نہ تھا

راتیں کٹی ہیں، دن بھی گُزارے گئے رشیدؔ
دیتا جو دُکھ میں ساتھ سہارا کبھی نہ تھا

رشِید حسرتؔ

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button