اردو غزلیاتحفیظ جالندھریشعر و شاعری

دو روز میں شباب کا عالم گزر گیا

حفیظ جالندھری کی اردو غزل

دو روز میں شباب کا عالم گزر گیا
"بدنام کرنے آیا تھا، بدنام کرگیا”

بیمارِ غم مسیح کو حیران کر گیا
اُٹھا، جُھکا، سلام کیا، گرکے مر گیا

گُزرے ہوئے زمانے کا اب تذکرہ ہی کیا
اچھا گزر گیا، بہت اچھا گزر گیا

دیکھو یہ دل لگی، کہ سرِ رہگزارِ حُسن
اک اک سے پوچھتا ہوں مرا دل کدھر گیا

اے چارہ گرمنا مرے تیغ آزما کی خیر
اب دردِ سر کی فکر نہ کر، دردِ سر گیا

اے میرے رونے والو خدارا جواب دو
وہ بار بار پوچھتے ہیں کون مر گیا؟

شاید سمجھ گیا مرے طولِ مرض کا راز
اب چارہ گر نہ آئے گا، اب چارہ گر گیا

جلوہ دکھا کے چھُپ گیا وہ شوخ اور ہمیں
وقفِ نزاعِ مسجد و بُت خانہ کرگیا

اب ابتدائے عشق کا عالم کہاں حفیظ
کشتی مری ڈبو کے وہ دریا اُتر گیا​

 

حفیظ جالندھری

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button