اسد اللہ خان غالب
اُردُو شَاعری نے سیکڑوں شُعراء پیدا کیے ہیں ۔ ہَنُوز یہ سلسلہ جاری ہے ۔ جن شُعراء کو ہر دور میں برابر شُہرَت اور ناَمُوری حَاصِل رہی ہے ان میں مرزا اسداللہ خاں غَالِبؔ کا نام سرفہرست ہے۔مرزا غَالِبؔ نے اُردُو شَاعری کو بالخصوص اور اُردُو نَثر کو بالعموم جو اُسلُوب کی جِدت اور شعری زُبان دی ہے وہ کسی اور شاعر کے حصے میں نہیں آئی۔ اُردُو زُبان واَدَب پر غَالِبؔ کے گہرے اَثرَات ہیں۔ کَلاسیکی غَزل میں مرزا غَالِبؔ کا دِیوان ان کے ہم عصر شُعراء کے لیے نمونہ ہے۔
-

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
-

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
-

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو
ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
-

میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
-

بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
غزل از اسداللہ خان غالب
-

منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی
غزل از اسداللہ خان غالب
-

ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
غزل از اسداللہ خان غالب
-

ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں
غزل از اسداللہ خان غالب
-

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
غزل از اسداللہ خان غالب
-

نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
غزل از اسداللہ خان غالب
-

درد سے میرے ہے تجھ کو بیقراری ہاے ہاے
غزل از اسداللہ خان غالب
-

دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں
ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
-

نُصرَتُ المُلک بَہادُر ! مُجھے بتلا ،کہ مُجھے
ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
-

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
-

وہ فراق اور وہ وصال کہاں
ایک غزل از اسد غالب
