آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

جس کے ہاتھ میں تانا بانا ہوتا ہے

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

جس کے ہاتھ میں تانا بانا ہوتا ہے
اس نے اپنا رنگ دکھانا ہوتا ہے

تجھ کو چھو کر اس قانون کا علم ہوا
آگ کا پہلا کام جلانا ہوتا ہے

اس میں تیرا نام نہ آئے ، تو آۓ
اچھے شعر کا یہ پیمانہ ہوتا ہے

آنکھ میں مصرعے بُن کر رکھتے جاتے ہیں
ہم نے کون سا اشک بہانا ہوتا ہے

ہر چہرے میں ایک ہی چہرہ دیکھے ہے
دل نے اپنا کام چلانا ہوتا ہے

ان میں کیسے کیسے سپنے اگتے ہیں
جن ہاتھوں نے دیپ جلانا ہوتا ہے

دروازے پر فرضی دستک سنتے ہیں
آخر جی کو بھی بہلانا ہوتا ہے

رستوں اور پیڑوں کو کیسے سمجھائیں
لوگوں نے بس آنا جانا ہوتا ہے

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button