آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری
جس کے ہاتھ میں تانا بانا ہوتا ہے
اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل
جس کے ہاتھ میں تانا بانا ہوتا ہے
اس نے اپنا رنگ دکھانا ہوتا ہے
تجھ کو چھو کر اس قانون کا علم ہوا
آگ کا پہلا کام جلانا ہوتا ہے
اس میں تیرا نام نہ آئے ، تو آۓ
اچھے شعر کا یہ پیمانہ ہوتا ہے
آنکھ میں مصرعے بُن کر رکھتے جاتے ہیں
ہم نے کون سا اشک بہانا ہوتا ہے
ہر چہرے میں ایک ہی چہرہ دیکھے ہے
دل نے اپنا کام چلانا ہوتا ہے
ان میں کیسے کیسے سپنے اگتے ہیں
جن ہاتھوں نے دیپ جلانا ہوتا ہے
دروازے پر فرضی دستک سنتے ہیں
آخر جی کو بھی بہلانا ہوتا ہے
رستوں اور پیڑوں کو کیسے سمجھائیں
لوگوں نے بس آنا جانا ہوتا ہے
اظہر عباس خان








