اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر جلال آبادی

پھر کہو گے تم مقابل کی سزا کے واسطے

ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی

پھر کہو گے تم مقابل کی سزا کے واسطے

آئینے کو ہاتھ سے رکھ دو خدا کے واسطے

کعبۂ دل کو نہ تاکو تم جفا کے واسطے

اے بتو! یہ گھر خدا کا ہے، خدا کے واسطے

یا الٰہی کِس طرف سے پاس ہے بابِ اثر

کون سا نزدیک ہے رستہ دعا کے واسطے

کہہ گئے کیا دیکھ کر نبضوں کو کیا جانے طبیب

ہاتھ اٹھائے ہیں عزیزوں نے دُعا کے واسطے

تم ابھی نامِ خدا نو مشقِ ظلم وجود رہو

آسماں سے مشورہ کر لو جفا کے واسطے

مجھ کو اُس مٹی سے خالق نے بنایا ہے قمر

رہ گئی تھی جو ازل کے دن جفا کے واسطے

قمر جلال آبادی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button