اردو نظمسعید خانشعر و شاعری

کلوژر

سعید خان کی اردو نظم

مرا دل بے نشاں کشتی
ترے جذبات کے طوفان زدہ
ناراض موسم میں
نجانے کب سے لرزاں ہے
کہاں تک سرد لمحوں میں سلگنا ہے؟
کہاں تک اجنبی موسم نبھانے ہیں ؟
چرا کر دل زدہ خوابوں کے دامن سے
شفق ساماں لفافے میں
سجا کر دو عدد قطرے بہاراں کے
اگر بھیجو
تو شاید شام ڈھل جائے

سعید خان 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button