- Advertisement -

خیالوں کی ادھوری دیوی

سید زاہد کا ایک کالم

صدیوں پرانے بت، فن پارے، یہ انسانی تخلیقات، سب مظاہر فطرت کی شخصی تشکیل ہیں۔ یہ دیویاں دیوتا، معبود بہت بعد میں بنے، پہلے پہل تو یہ قومی ہیرو تھے : مظاہر قدرت کی اعلیٰ شکل، انسان۔ اس کی کرامات نے کف خاک کو رتبۂ اعلیٰ بخشا اور لوگوں نے ان کی پوجا شروع کردی۔ نیفریٹیٹی، جس کا لفظی معنی خوبصورت عورت ہے، ایک طاقتور ملکہ؛ جب مصر کا سکہ شام سے لے کر سوڈان تک چلتا تھا۔ اس دور میں خوشحالی نیل کی لہروں کے ساتھ ساتھ پوری مملکت میں لہراتی تھی۔ کہتے ہیں کہ وہ خدائے واحد کے نظریہ کی خالق تھی۔ اسی کو تمثیل بنا کر دیوی ہیتھر کی مورتیاں تراشی گئیں۔ ہیتھر آسمانوں کے خدا ہورس، سورج دیوتا را اور بہت سے دوسرے دیوتاؤں کی ماں، بہت سے شاہی خاندان اس کی کوکھ میں پلے۔ وہ جنسیت، موسیقی، رقص اور زچگی کی بھی دیوی تھی۔

تامل ناڈو کی سیمپیان مہادیوی، چولہ حکمران کی جواں سال بیوہ، فن اور فن کاروں کی ہمدرد اور مندروں کی سرپرست۔ اس کی زندگی میں ہی شکتی مت کی سپریم دیوی شکتی کی مورتی بنانے والوں نے اس میں سیمپیان کا چہرہ اور اپنی عقیدت و محبت ڈال دی۔ لوگوں کے دل بھی اس کے ساتھ دھڑکے۔ حسن نے کرشمے دکھائے اور جمال کی کرامات نے اسے بھی اوتار بنا دیا۔

مجھے ایسی ہستی کہاں سے ملے گی؟ کون ہے جس کے ساتھ ساتھ ہمارے مردہ دل دھڑکنا شروع کر دیں؟
حسن و عشق کی ایک اور لازوال داستان، افرودیتہ کی مورتی بیان کرتی ہے۔

یونانیوں نے تو بہت پہلے یہ جان لیا تھا کہ فنکار کی صلاحیت کا اصل امتحان انسانی اشکال کو مورتی میں ڈھالنا ہے۔ ان کے خدا بھی انسانی خوبصورتی اور جمال کے مظہر تھے۔ یونانی اساطیری کہانیوں میں ان کے رویے بھی خالصتاً انسانی نظر آتے ہیں۔ یہی خوبصورتی اور جذبات ان کے بتوں میں بھی موجود ہیں۔ ان کے ہاں انسانی جسم ہی معبود تھا اور عابد بھی۔ وہی دیوتا تھا وہی انسان۔ فانی بھی وہی اور جاوداں، پیہم‌ دواں، ہر دم جواں بھی وہی۔

انہوں نے انسان اور دیوتا دونوں ہی اصل شکل اور حلیے میں بنائے۔ وہ تو فطرت کے اتنے قریب تھے کہ دیوتاؤں کو بھی اکثر عریانی اوڑھے دکھاتے تھے لیکن دیوی کو کبھی بھی اس حالت میں نہ بنایا۔

پھر حسن و عشق نے جلوہ دکھایا اور ایتھنز کے رہنے والے پراکسیٹیلس نے اپنی محبوبہ کو سامنے کھڑا کر کے افرودیتہ کی مورتی بنائی۔ دیوی صرف ایک ہاتھ سے اندام کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ کسی نے انسانوں میں کبھی اتنی خوبصورت عورت نہیں دیکھی تھی۔ مندر کے سامنے کھڑے تاڑ کے پیڑ جیسی بانکی سجیلی۔ بت گر نے اس کی زلفوں میں ہواؤں کو قید کر لیا تھا اور وہ لہراتے لہراتے اس کے ساتھ ہی تھم گئی تھیں۔

کہتے ہیں کہ اس سنگی مجسمے کو دیکھنے دیوی خود آئی۔
حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی،

” جہاں تک مجھے علم ہے پارس، ایڈونس اور اینکیسس تو میرے جلوؤں سے مستفیض ہوئے تھے، پراکسیٹیلس نے یہ شاہکار کیسے بنا لیا؟“

بت ساز کے ہاتھوں نے اپنی محبوبہ کو دیوی کی شکل میں ڈھال دیا۔ سنگ مرر بھی حسن اور عشق کے سامنے موم بن گیا۔

سنا تھا کہ دیوتاؤں کا دل پتھر کا ہوتا ہے، وہ دھڑکتا نہیں لیکن اس میں جلن کا مادہ ضرور ہوتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اب خود کو انسانوں سے دور کر لیا ہے۔ کیونکہ انسان بھی دیوی دیوتا بن گئے اور ان سے زیادہ پتھر دل۔

ہمارے ہاں کون ہے جسے دیکھ کر سنگ مرر اپنی سختی بھول جائے؟ کون ہے جس کے سامنے صلابت نرم مزاجی میں ڈھل جائے؟

میں اپنے خیالوں کی دیوی کو کس تمثیل پر ڈھالوں؟

یہاں عشق و محبت کی قدر نہیں۔ حسن و جمال کی توقیر کہیں کھو گئی ہے۔ حسن کے کرشمات اور عشق کی کرامات کہیں بھٹک گئی ہیں۔ محبت کی روایات دفن ہو چکی ہیں۔ اس گرسنہ معاشرے میں تو غم الفت کا بھی قحط ہے۔

اس معمورے میں قحط الرجال ہے، میں ایسی خوبیوں والا حسین و جمیل کہاں سے ڈھونڈوں۔ یہاں بھلا مانس ذی جوہر کوئی ملتا ہی نہیں۔ یہاں تو انسانیت کا ہی کال ہے۔

ستارے اندھے ہو گئے ہیں۔ چاند ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی عریاں لاش۔ زمین و آسماں، صبح و شام، یہ آب و ہوا یہاں تک کہ میری اپنی سانس کی یکساں آمد و شد، سب بیکار ہیں۔ جب جمال حسن نہیں تو یہ دنیا فضول ہے۔

میں کیا کروں میرے ہاتھ، میری انگلیاں تو صرف خوبصورتی و جمال تراشتی ہیں۔ ان میں ہیجان ہے، آرزو ہے لیکن ایک لاثانی شاہکار بنانے کے لیے میں تمثیل کہاں سے لاؤں؟

میں اپنی تخلیق میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے مجاز کہاں سے لاؤں؟

 

سید زاہد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
تسلیم اکرام کی ایک اردو غزل