آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزنجمہ منصور

حوصلہ افزائی

ایک اردو تحریر از نجمہ منصور

حوصلہ افزائی تخلیق کار کے لیے اکسیر اور بے جا تنقید زہر ہے

ادب تخلیق کا نام ہے ۔۔۔ جذبات، تجربات ، اور مشاہدات کی جمالیاتی پیشکش ۔ ادیب کے لیے حوصلہ افزائی وہ روشنی ہے جو اس کے تخیل کے چراغ کو جلائے رکھتی ہے جب کسی تخلیق کار کو اس کے فن، زبان یا فکر پر مثبت رائے ملتی ہے تو اس کے اندر مزید بہتر لکھنے کی تڑپ پیدا ہوتی ہے میر تقی میر کے زمانے میں اگرچہ ان پر تنقید بھی ہوئی مگر ان کی شاعری کی قدر کرنے والوں نے ہی انہیں "خدائے سخن” کے مقام تک پہنچایا۔ غالب پر بھی سخت اعتراضات کیے گئے، لیکن چند مخلص نقادوں کی حوصلہ افزائی نے ان کی خوداعتمادی کو قائم رکھا۔

تخلیق ایک نازک نفسیاتی عمل ہے ادیب یا شاعر جب لکھتا ہے تو وہ اپنی ذات کا ایک حصہ قارئین کے سامنے رکھتا ہے لہٰذا اس پر بے جا تنقید اس کے اندر احساسِ عدمِ تحفظ پیدا کرتی ہے مثبت یا تعمیری تنقید تخلیق کار کو سوچنے، سمجھنے اور نکھرنے کا موقع دیتی ہے جبکہ منفی یا ذاتی نوعیت کی تنقید اس کے اندر خوف، مایوسی اور خاموشی کو جنم دیتی ہے۔ بہت سے باصلاحیت شاعر و ادیب وقت سے پہلے ہی قلم چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ معاشرہ ان کی تخلیق کو برداشت نہیں کرتا بلکہ زخمی کرتا ہے۔

ادب کی تعلیم میں بھی طلبہ کو لکھنے اور سوچنے پر آمادہ کرنے کے لیے حوصلہ افزائی بنیادی ستون ہے اگر استاد یا ناقد ہر غلطی پر طنز کرے تو طالب علم کی تخلیقی قوتیں دب جاتی ہیں جبکہ اگر وہ ان کی کاوش کو سراہ کر بہتری کی سمت رہنمائی کرے تو وہی طالب علم ایک دن بڑا ادیب بن سکتا ہے۔ اچھے الفاظ میں تنقید کرنا تخلیق کا دوسرا نام ہے یعنی جو ناقد حوصلہ اور رہنمائی دونوں دے وہ ادب کے مستقبل کو سنوارتا ہے۔

ادبی ماحول بھی ایک سماجی فضا رکھتا ہے اگر معاشرہ ادیبوں کو احترام اور محبت دے تو ادب پھولتا ہے لیکن اگر ادیب کا مذاق اڑایا جائے اس کی سوچ کو کچلا جائے، یا اس پر فتوے لگائے جائیں تو ادب گھٹن اور خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔ سعادت حسن منٹو پر بے جا تنقید اور مقدمات نے ان کے اندر گہرا زخم پیدا کیا مگر ان کی تخلیق نے انہی زخموں کو فن میں بدل دیا اگر معاشرہ منٹو کو اس وقت مثبت تنقید اور اخلاقی سپورٹ دیتا تو شاید ان کا انجام مختلف ہوتا۔

حوصلہ افزائی تخلیق کار کے لیے اکسیر ہے اور بے جا تنقید زہر۔ ادب تبھی ترقی کرتا ہے جب تنقید رہنمائی میں ڈھلے اور حوصلہ افزائی رواج پائے ایک صحتمند ادبی فضا کے لیے ضروری ہے کہ تنقید فن پر ہو فنکار پر نہیں اصلاح احترام کے ساتھ دی جائے اور تخلیق کار کو اعتماد، محبت اور سچائی کی ہوا میسر آئے۔

نجمہ منصور

post bar salamurdu

نجمہ منصور

نجمہ منصور ۹نومبر ۱۹۶۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۸۰ء میں میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرگودھا سے کیا اور ایم۔اے تاریخ اور ایم۔اے ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نجمہ منصور بنیادی طور پر نثری نظم کی شاعرہ ہیں شاعری کا آغاز کالج دور سے ہوا۔ پہلی کتاب 1990 میں شائع ہوئی مگر ان کا علمی و ادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک بہترین ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہی ہیں ان کی ایک کتاب ،، اگر نظموں کے پر ہوتے ،، کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔ ان کی تقریباً دو درجن کے لگ بھگ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button