سائٹ کا نقشہ
- تیرے ہوتے ہوئے اکیلی ہے
- تعبیر کچھ تو ہو کبھی میرے بھی خواب کی
- سماعتوں کا یہ اعجاز دیکھتی ہوں میں
- جب سے ادراک و ہُنر کا مجھ پہ در وا ہو گیا
- میری صبح میری رات رہنے دیتے
- ہوا چپ ہے صدا چپ ہے
- کب ہمیں تمنّا تھی آنکھ میں بسانے کی
- بے شک گزر رہی ہے مسلسل عذاب میں
- جسم و جاں کے زنداں میں روشنی کی خواہش کی
- گر ہے تو لمحہ لمحہ یہی اک ملال ہے
- میرے اندر خاموشی بولتی ہے
- اے ہم نفس بتا تو۔ ۔ ۔
- مرے ہم نشیں
- شام اُسے بتانا
