سائٹ کا نقشہ
- آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے
- پچھلی رُت کے شوخ زمانے یاد آئے
- سایۂ گُل میں رہوں محوِ خراماں ہمدم
- سنتے تھے بیوفائیاں تیری
- ہمیں تیری محبت میں کمی اچھی نہیں لگتی
- ہوئی ہیں گویا گلاب آنکھیں
- تمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟
- گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی
- اگر مل سکے تو وفا چاہیے
- بد گمانی کا ذرا پردہ ہٹا کر دیکھیئے
- سوچتے رہتے ہیں ہر دم جو ضرر کی باتیں
- وہ نہیں جانتے جب وفا، کیا کریں
- رہتا ہے مری تاک میں آزار کا موسم
- ہم جہاں بھی جدھر بھی جائیں گے
