سائٹ کا نقشہ
- ہم بہرحال دل و جاں سے تمہارے ہوتے
- میں جی رہا ہوں صرف ترے اعتبار تک
- کون بدلے گا تغزل کی فضا میرے بعد
- وہ دریچے میں کب نہیں آتا
- شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں
- اک جھلک اُس کفِ حنائی کی
- دیا اس نے محبت کا جواب، آہستہ آہستہ
- اب کرو گے بھی کیا وفا کر کے
- اپنے ہی دست و پا مرے اپنے رقیب ہو گئے
- پھولوں کی اور چاند ستاروں کی کیا کمی
- نہ کوئی رنگ، نہ ہاتھوں میں حنا، میرے بعد
- منزلوں کا پتہ لگانا کیوں؟
- کچھ لوگ جن کو فکرِ زیاں دے دیا گیا
- کر کے وفا، پلٹ کے وفا مانگنے لگا
