سائٹ کا نقشہ
- غم کا راہ اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا
- وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے
- تیری آواز چلی آتی ہے
- گزرے ہوئے طویل زمانے کے بعد بھی
- درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لئے
- راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے
- کیا خبر تھی پھر نیا وقتِ سفر آ جائے گا
- شہرِ برباد میں
- کیوں نہ ہم اس کو اسی کا آئینہ ہو کر ملیں
- تلاشِ گمشدہ
- جب بیاں کرو گے تم، ہم بیاں میں نکلیں گے
- تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر
- کیسی بھلا یہ برہمی کیسا یہ پیچ و تاب ہے
- آغوشِ ستم میں ہی چھپا لے کوئی آ کر
