سائٹ کا نقشہ
- خوشی خوشی سے مگر اپنے بن رہا ہوں میں
- میں جانتا ہوں ترے جسم کو ہرا کرنا
- اپنے بارے میں جانتی ہے وہ
- مجھے بھی علم نہیں تھا میں شعر کہتا تھا
- باغ میں تُو اگر نہیں آتا
- ایسی تنہائی کہ دشمن ہے نہ محرم کوئی
- گزر ہی جائے گی شب ، رابطہ نہیں کرنا
- یہی تو بات … گوارا نہیں محبت کو
- وہ آ کے لوٹ گیا ، کائنات ختم ہوئی
- بکھر جانے سے پہلے
- سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
- بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی
- جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا
- کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے
