سائٹ کا نقشہ
- ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے
- اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا
- بتا کہ راہِ وفا میں کوئی سوار دیکھا
- حیراں ہوں زندگی کی انوکھی اڑان پر
- جلتا رہا ہوں رات کی تپتی چٹان پر
- تمہارے وہاں سے یہاں آتے آتے
- اڑ کر کبوتر ایک سرِ بام آ گیا
- جب ترا دامنِ تر یاد آیا
- خدا بھی اور سمندر میں ناخدا بھی ہے
- سن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟
- پھر جدائی، پھر جئے، پھر مر چلے
- تر بہ تر اے چشم تجھ کو کر چلے
- تُو نے پھینکا عدیم جال کہاں
- اور ہے اپنی کہانی اور ہے
