سائٹ کا نقشہ
- رتجگے کرتی ہوئی پاگل ہوا کچھ ٹھہر جا
- خواہشیں ہوش کھوئے جاتی ہیں
- دشمنِ جاں کوئی مہمان بناتی ہوں میں
- بہت آسان تھا اس کی محبت کو دعا کرنا
- دھوپ گر نہ صحرا کے، راز کہہ گئی ہوتی
- ہر سوال اب مرا شِکستہ ہے
- اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
- تتلیاں ہی تتلیاں ہیں تم جو میرے سات ہو
- ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں
- صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے
- تخلیق کا عمل اسے سچی خوشی لگا
- ان بادلوں میں روشن چہرہ ٹھہر گیا ہے
- بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا
- خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر
