سائٹ کا نقشہ
- جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے
- دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے
- شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا
- دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے
- کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا
- فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں
- میں وحشت و جنوں میں تماشا نہیں بنا
- ہر ایک رنگ دھنک کی مثال ایسا تھا
- دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا
- اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا
- غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا
- جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی
- اے تعصب زدہ دنیا ترے کردار پہ خاک
- دشت میں وادئ شاداب کو چھو کر آیا
