سائٹ کا نقشہ
- روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
- ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں
- آدھی رات کے شاید سپنے جھوٹے تھے
- مرے خیال کے برعکس، وہ بھی کیسا ہے
- آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا
- جب بھی خوشبو سا مرے دل نے بکھرنا چاہا
- کوئی بھی نہ دیوار پر سے پکارے
- مرے قریب ہی گو زرد شال رکھی ہے
- ہے ذرا سا سفر ، گزارا کر
- شام کی گنگناہٹوں میں گم
- منزل کو رہگزر میں کبھی رکھ دیا کرو
- بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں
- یاد رکھنے کے لیے اور نہ بھُلانے کے لیے
- جُھومتی ، دف بجاتی ، گاتی موت
