سائٹ کا نقشہ
- ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا
- کوئی ان دیکھی فضا تصویر کرنا چاہیئے
- جنوں کو رخت کیا خاک کو لبادہ کیا
- قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے
- خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے
- زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا
- تیرے حصے کے بھی صدمات اٹھا لیتا ہوں
- تو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا
- کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہئے ہے
- مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں
- یہ جو بیدار دکھائی دیا ہوں
- چراغ طاق طلسمات میں دکھائی دیا
- تمہارے ہجر کو کافی نہیں سمجھتا میں
- دانۂ گندم بیدار اٹھانے لگا ہوں
