سائٹ کا نقشہ
- چھلکا چھلکا رہتا ہے ، درد سے بھرا ساون
- مرے گھر میں محبت خوبصورت شام آنے دے
- وہ مور پنکھ سے ہر زخم جھلنے جائے گا
- ابر بھی جھیل پر برستا ہے
- پاس منزل کے پہنچ کر کوئی موڑا نہ کرے
- اپنی صدا سے اپنی شناسائی کھو گئی
- گھر دروازے سے دُوری پر سات سمندر بیچ
- ملے گی میری بھی کوئی نشانی چیزوں میں
- زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے
- خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونے لگا ہے
- تاش کے گھر بنائے بیٹھی ہوں
- ہیلو
- مری خامشی میں بھی اعجاز آئے
- چھائی ہوئی ہیں یاس کی گہری خموشیاں
