سائٹ کا نقشہ
- پاگل پن ہم جیسے پاگل کرتے ہیں
- اپنی صحبت میں دن گزرتا ہے
- مری آنکھوں میں کوئی اشک اتارا جائے
- سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے
- خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئی
- وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے
- سماں غروب کا دل میں رہا ابھرتے ہوئے
- یوں تو وہ شکل کھو گئی گردش ماہ و سال میں
- نبض ایام ترے کھوج میں چلنا چاہے
- ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو
- وہ جو لوگ اہل کمال تھے وہ کہاں گئے
- بہت سے لوگ رستے میں کھڑے تھے
- بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے
- دیکھ کر بےساختہ ہنستے ہوئے
