سائٹ کا نقشہ
- آئیے رو لیں کہیں رونے سے چین آ جائے گا
- آوارۂ غربت ہوں ٹھکانہ نہیں ملتا
- کل میں انہی رستوں سے گزرا تو بہت رویا
- یہ سوچ کر مرا صحرا میں جی نہیں لگتا
- انعام یافتہ بھی خطاوار بھی ہوا
- سبھی کو بندشِ گُفتار ہونا چاہیے تھا
- نذرِ آلام ہوئے جاتے ہیں
- فراقِ یار میاں ٹھیک ہَو بھی سکتا ہے
- شاعری تیرا مسئلہ نہیں ہے
- آنکھوں کو موندے بیٹھے ہیں طائر مزاج ہم
- جب ذرا ہوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا
- سہنے کو ہجر جب بھی تمنا مزید کی
- مکانِ دل میں کوئی بھی مکیں نہیں مرے دوست
- یوں بھـــی اپنا دل بہـــــــــــلاتا رہتا تھا
