آپ کا سلاماردو غزلیاتاویس خالدشعر و شاعری

ہزاروں راز پنہاں ہیں شعور خاک کے اندر

ایک اردو غزل از اویس خالد

ہزاروں راز پنہاں ہیں شعور خاک کے اندر
زمانے دفن ہیں رمز تہہ بےباک کے اندر

ڈھکے چہروں سے حرمت کے لبادے ہٹ گئے لیکن
ابھی باقی ہیں گنجینے کف ادراک کے اندر

نہیں یہ فکر پستی میں کہاں تک گر گیا ہے خود
جسے دیکھو ہے دوجے کی وہ کھوج و تاک کے اندر

کہیں پر جسم بے بس ہے تلاشی ستر پوشی میں
کہیں انسان نہیں ہوتے حسیں پوشاک کے اندر

پڑے آغوش خاکی میں گوہر دھیرے سے چمکے ہے
غرور بے بہا ہے تو خس و خاشاک کے اندر

اویس خالد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button