انوار الحق سید کی کتاب ” سویرا ہو رہا ہے ” پر ایک نظر
کہا جاتا ہے کہ کچھ ملاقاتیں محض اتفاق نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اور تقدیر کی ترتیب دی گئی ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک ملاقات 2020 میں، ارشاد خان اتمان زئی کے ریڈیو پروگرام کے توسط سے انوار الحق سید سے ہوئی۔ پہلی بار انوار الحق سید کی آواز، ان کے لہجے، اور ان کے جملوں نے دل کو جیسے پہلی دستک دی۔
اور پھر جب ان کی شاعری کی کتاب "سویرا ہو رہا ہے” میرے ہاتھ میں آئی تو لگا جیسے لفظوں کا ایک روشن سویرا دل کی دہلیز پر اتر آیا ہو۔ وہ شخص جو خود بھی خوش رہتا ہے اور دوسروں کو بھی مسکرا دینا سکھا دیتا ہے۔
انوار الحق سید کی شخصیت میں ایک دلکشی ہے ، ہنسی مذاق سے بھرپور، بے ساختہ برجستگی سے آراستہ، اور ایسی زندہ دلی سے لبریز کہ سنگین سے سنگین ماحول کو بھی وہ خوشبو بنا دیتے ہیں۔ ان کی گفتگو، ان کے لہجے، اور سب سے بڑھ کر ان کے اشعار میں ایک خاص قسم کی سادگی اور انسان دوستی کا رنگ جھلکتا ہے۔
وہ شاعر جو صرف لفظوں سے نہیں، اپنی زندگی، اپنے مشاہدے، اپنے سفر، اپنی تھکن، اپنی تنہائی، اور اپنی امیدوں سے شعر کہتا ہے۔
انوار الحق سید کے اشعار میں نہ فلسفیانہ مغالطے ہیں، نہ بناوٹی پیچیدگیاں۔
وہ اپنے دل کی بات کہنے سے نہیں ڈرتے۔
ان کی زبان میں خلوص ہے، ان کی کیفیت میں شفافیت ہے، اور ان کے ہر مصرعے میں وہ تازہ ہوا ہے جو قاری کے دل کو سکون دے۔ اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو نرمی، برداشت، درگزر اور دردمندی کا سبق دیتے ہیں۔ وہ شاعر جو محبت کو مایوسی میں، روشنی کو دھند میں، اور خوشبو کو جنگل میں تلاش کرتا ہے، وہی انوار الحق سید ہے۔
انوار الحق سید کی شاعری اندھیروں کی گواہی نہیں دیتی، بلکہ صبح کی شہادت دیتی ہے۔
وہ شاعر جو صرف غم کو بیان نہیں کرتا، بلکہ اس غم میں سے مسکراہٹ کشید کرتا ہے۔ جو یادوں کے بھنور میں بھی نئی دعاؤں کے چراغ جلا دیتا ہے۔
گو کہ دشمن ہزار ہیں میرے
دوست بھی بے شمار ہیں میرے
غم کسی بات کا نہیں مجھ کو
سینکڑوں غمگسار ہیں میرے
۔۔
انوار الحق سید، امید کا شاعر، انسان دوستی کا علمبردار، اور لفظوں کا وہ مسافر جس کی شاعری قاری کو تنہائی سے نکال کر محبت کی طرف لے جاتی ہے۔
آخر میں کتاب سے چند اشعار
سانسوں کا بندھن باقی ہے
گر دل کی دھڑکن باقی ہے
گھر لے گئیں ندیا کی موجیں
بس گھر کا آنگن باقی ہے
۔۔۔۔۔۔
عمر کٹنے لگی اندھیاروں میں
آؤ پھر لوٹ چلیں غاروں میں
راز الفت کا چھپاتا کیسے
بات ہونے لگی بازاروں میں
۔۔۔۔
دل کو بچانا کتنا مشکل ہوتا ہے
آگ بجھانا کتنا مشکل ہوتا ہے
ساتھ رہے جو برسوں تک اس انساں کو
دل سے بھلانا کتنا مشکل ہوتا ہے
خاموشی کے رستے پر چلتے چلتے
بات بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔
کٹھن سفر ہے تو کیا ہوا ہے
یقین کامل جو رہنما ہے
نہ جانے کب سے میں سوچ رہا
نہ جانے کیسا معاملہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کدورت میں محبت دیکھ لی ہے
ترے غم کی کرامت دیکھ لی ہے
نظر آتا ہے ہر کشکول خالی
امیروں کی سخاوت دیکھ لی ہے
مرا دشمن مرا مہماں ہے جس نے
مری بستی سلامت دیکھ لی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گو کہ دشمن ہزار ہیں میرے
دوست بھی بے شمار ہیں میرے
خاکساری ہی میرا مسلک ہے
یار بھی خاکسار ہیں میرے
چین مجھ کو اگر نہیں پڑتا
دوست کیوں بے قرار ہیں میرے
غم کسی بات کا نہیں مجھ کو
سیکڑوں غمگسار ہیں میرے
سہیل احمد صمیم








