روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف کی حالیہ ملاقات بین الاقوامی میڈیا میں خاصی زیرِ بحث رہی۔ اس ملاقات میں روسی صدر نے پاکستان کو ”روایتی پارٹنر” قرار دیا، جو ایک ایسا جملہ ہے جس نے نہ صرف اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑائی بلکہ بھارت کے لیے بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر بھارت پر تجارتی و سیاسی دباؤ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان روس کے لیے روایتی پارٹنر ہے یا یہ صرف ایک سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے؟
پاکستان اور روس کے تعلقات کی تاریخ اگر دیکھی جائے تو یہ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ سرد جنگ کے دور میں پاکستان امریکہ کے ساتھ کھڑا رہا جبکہ بھارت نے سوویت یونین سے قریبی تعلقات قائم کیے۔ افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں حالات بدلنے لگے ہیں۔ روس کو خطے میں نئے اتحادیوں کی تلاش ہے، خاص طور پر اس وقت جب مغرب نے یوکرین جنگ کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو توانائی، تجارت اور جغرافیائی حیثیت کے اعتبار سے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پوتن کا پاکستان کو ”روایتی پارٹنر” کہنا دراصل ایک علامتی پیغام بھی ہے۔ روس یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ خطے میں بھارت تک محدود نہیں ہے۔ بھارت بلاشبہ روس کا پرانا دفاعی پارٹنر ہے، لیکن گزشتہ برسوں میں بھارت نے امریکہ، یورپ اور جاپان کے ساتھ بھی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ یہ بات ماسکو کے لیے آسان نہیں کہ وہ دہلی پر مکمل انحصار کرے۔ اسی لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانا روس کے لیے ایک طرح کی توازن قائم کرنے کی پالیسی ہے۔
لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان اس موقع کو حقیقت میں بدل سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ روس اور پاکستان کی تجارت اب بھی محدود ہے۔ اگرچہ توانائی کے شعبے میں بات چیت جاری ہے، اور پاکستان نے روس سے تیل خریدنے کی کوشش بھی کی ہے، لیکن یہ سب ابھی ابتدائی سطح پر ہے۔ اسی طرح دفاعی تعاون بھی محدود ہے۔ چند مشترکہ فوجی مشقیں ضرور ہوئیں، لیکن ان کا دائرہ وسیع نہیں۔ اس کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور روس کے تعلقات ایک نئی راہ پر ضرور چل پڑے ہیں۔
بھارت کے لیے یہ صورتحال یقیناً پریشان کن ہو سکتی ہے۔ ایک طرف امریکہ بھارت پر دباؤ بڑھا رہا ہے، دوسری طرف اگر روس بھی پاکستان کے قریب آتا ہے تو دہلی کے لیے توازن قائم رکھنا مشکل ہوگا۔ بھارت کے تجزیہ نگاروں نے بھی اس ملاقات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق روس کا یہ رویہ بھارت کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر وہ مغرب کے قریب جاتا رہا تو ماسکو دوسرے دروازے کھٹکھٹانے میں ہچکچاہٹ نہیں کرے گا۔
پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات کو محض بیانات تک محدود نہ رکھے بلکہ عملی تعاون کی طرف بڑھائے۔ توانائی کے منصوبے، گیس پائپ لائنز، اور تجارتی روابط ایسے شعبے ہیں جن میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح دفاعی تعاون کو بھی وسعت دی جا سکتی ہے، جو نہ صرف پاکستان کے لیے مددگار ہوگا بلکہ روس کے لیے بھی ایک نئی منڈی کا دروازہ کھول سکتا ہے۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب بھی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کی ضرورت ہے، دوسری طرف چین پاکستان کا سب سے قریبی دوست ہے، اور اب روس کو بھی شراکت دار کے طور پر شامل کرنا ایک نازک توازن کا کھیل ہے۔ اگر پاکستان اس توازن کو دانشمندی سے سنبھال لے تو یہ خطے میں اس کی پوزیشن کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پوتن اور شہباز شریف کی ملاقات اگرچہ ایک بڑی خبر ہے، لیکن یہ محض ایک ملاقات سے زیادہ کچھ نہیں جب تک کہ اسے عملی شکل نہ دی جائے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے دور میں داخل کرے۔ بھارت کے لیے یہ یقیناً پریشانی کا باعث ہے، لیکن اصل امتحان اس بات کا ہے کہ آیا پاکستان اور روس بیانات سے آگے بڑھ کر حقیقت میں شراکت داری قائم کر پاتے ہیں یا نہیں۔ وقت ہی بتائے گا کہ یہ ملاقات تاریخ کا حصہ بنتی ہے یا صرف اخبارات کی سرخیوں تک محدود رہتی ہے۔
یوسف صدیقی








