آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریصائمہ کامران

زندگی زخم سے موسوم

سیدہ صائمہ کامران کی ایک اردو غزل

زندگی زخم سے موسوم تو ہولینے دو
اس کو میرے لیے مقسوم تو ہولینے دو

بات کو بات سے الجھائے چلے جاتے ہو
تم مکمل مرا مفہوم تو ہولینے دو

ڈھونڈ لے گا یہ زمانہ تمہیں ان میں آخر
میرے شعروں کی ذرا دھم تو ہولینے دو

ہاں چلے جانا بڑے شوق سے لیکن ٹھہرو
نقش بر آب ہوں معدوم تو ہولینے دو

پھر کبھی بیٹھ کے طے کرنا شرائط مجھ سے
پیار کو لازم و ملزوم تو ہولینے دو

سیدہ صائمہ کامران

post bar salamurdu

صائمہ کامران

شاعرہ، بچوں کی ادیبہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی سلیبس ڈیزائنر،کالم نویس،بین الاقوامی چینلز کی اینکر پرسن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button