آپ کا سلاماردو تحاریراسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتیمقالات و مضامین

محبت الٰہی

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

قرآن مجید فرقان حمید کا بنیادی موضوع اللہ تبارک وتعالیٰ سے محبت ہے پھر اس کی تفصیل میں ہمارے فقہاء لکھتے ہیں کہ رب الکائنات سے محبت اس کے احکامات کی پیروی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں پنہاں ہے اور قرآن ہمیں ہر ہر جگہ پر یہ ہی درس دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے

جیسے سورہ العمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(31)

ترجمہ کنزالایمان 
اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اسی لیئےاللہ رب العزت بڑی شان سے کہتا ہے کہ

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ:

اور ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ یعنی مومن اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات سے بڑھ کر صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں محبت الٰہی میں جینا اور محبت الٰہی میں مرنا ہی ان کی زندگی کا حقیقی مقصد ہوتا ہے اس آیت مبارکہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سچا مومن وہ ہے جو دنیا کی ہر شہہ سے بڑھ کر صرف اللہ رب العزت سے محبت کرے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ ” میں نے جن اور انسان کو اپنی عبادت کے لیئے پیدا کیا ہے ” مگر یہ عبادت عام عبادت نہیں بلکہ محبت کے ساتھ جو عبادت کی جائے وہ ہی محبت الٰہی تک پہنچنے کی سکت رکھے گی جبکہ قرآن مجید میں محبت الٰہی کا معیار اطاعت رسول ﷺ مقرر کیا ہے اب دیکھیئے کہ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اس معیار پر اترتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں کیونکہ ویسے ہم اپنے آپ کو عاشق رسول ﷺ کہتے ہیں لیکن اللہ رب العزت کی محبت میں اس کے حبیب کریم ﷺ سے کس حد تک محبت کرتے ہیں ؟اس کا جواب ہمیں ہمارے اسلاف سے ملتا ہے حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی میں ایسا بھی وقت آیا جب وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ” ہم سے تو دھوبی کا بیٹا اچھا نکلا ہم سے تو اتنا بھی نہ ہوسکا ” پھر جب بھی وہ یہ بات کرتے تو اسی وقت بیہوش ہو جاتے اور یہ معاملہ اکثر ان کے مریدین کے سامنے ہوتا آخر ایک دن ان کے مرید نے پوچھا کہ حضور یہ دھوبی کے بیٹے کا کیا قصہ ہے تو فرمایا کہ ایک دھوبی گھاٹ تھا جہاں دو میاں بیوی اور ایک ان کا بیٹا کام کرتے تھے ان کے پاس بادشاہ کے محل سے کپڑے دھلنے کے لیئے آیا کرتے تھے ان کپڑوں میں بادشاہ کی شہزادی کے کپڑے بھی تھے جو ان کے بیٹے کے پاس آتے آہستہ آہستہ وہ شہزادی کے کپڑے الگ کرکے خود بڑی محبت سے دھوتا پھر انہیں سکھا کر استری کرکے بڑے اچھوتے انداز میں تہہ کرکے رکھتا یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ یوں شہزادی کے نادیدہ عشق میں گرفتار ہوگیا اس کی ماں نے اس کے اندر یہ تبدیلی محسوس کی اور شوہر سے کہا کہ یہ تو ہم سب کو مروائے گا یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے، والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی، ادھر جب تک لڑکا بن دیکھے عشق میں مبتلا ہوکر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا، محبت کا بخار نکلتا رہتا تھا، مگر جب اس پر پابندی لگادی گئی اور اس کو اس خدمت سے ہٹایا گیا تو لڑکا بیمار پڑ گیا اور جب بیماری حد سے بڑھی تو چند دن کے بعد ہی وہ نوجوان دنیا سے رخصت ہو گیا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعدجب کپڑوں کی دھلائی استری اور تہہ بندی میں تبدیلی محسوس ہوئی تو شہزادی نے دھوبن کو بلوالیا شہزادی نے کہا یہ بتائو کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟ تو دھوبن نے جواب دیا کہ میں دھوتی ہوں تو پہلے کون دھوتا تھا؟ تو دھوبن نے کہا کہ پہلے بھی میں ہی دھوتی تھی تو شہزادی نے اس کے سامنے کپڑے رکھے اور کہا کہ یہ تہہ کرو جب اس نے تہہ کیئے تو شہزادی نے ڈانٹتے ہوئے کہا تم جھوٹ کیوں بولا رہی ہو سچ سچ بتائو ورنہ تمہیں کڑی سزا کا سامنا کرنا ہوگا اب ایک تو دھوبن کے پاس کوئی راستہ نہ تھا دوسرا اس کے دل کا غبار باہر نہیں نکلا تھا لہذہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور سارا ماجرا شہزادی کو سنا دیا شہزادی دھوبن کی بات سن کر سناٹے میں آگئی اور سوچنے لگی کہ کوئی اس حد تک بھی عشق میں جا سکتا ہے کچھ دیر توقف کے بعد اس نے سواری تیار کرنے حکم دیا اور دھوبی کے بیٹے کی قبر پر پھول چڑھانے پہنچ گئی اس شہزادی کا اب یہ معمول تھا کہ وہ ہر سال اس دھوبی کے بیٹے کی برسی پر اس کی قبر پر جاتی اور پھول چڑھاتی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس واقعہ کو سنانے کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مریدین سے کہا کہ اگر ایک انسان کو ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہوسکتی ہے تو بھلا جس خدا کو ہم نے دیکھا نہیں جس کو ہم اپنا سب کچھ مانتے ہیں اس سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہوسکتی ؟ اگر ایک انسان سے محبت کرنے پر ہمارے مزاج میں تبدیلی رونما ہوسکتی ہے اور تبدیلی کا یہ حال تھا کہ اپنی پوری محنت اور صلاحیت اس کے کپڑے دھونے استری کرنے اور اپنے انداز میں تہہ کرنے میں صرف کرسکتا تھا تو کیا ہم اپنے رب تعالیٰ سے محبت کو اس کی عبادت میں اس کی نماز کی ادائیگی میں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرکے اپنے ہر عمل سے رب العزت کو راضی نہیں کرسکتے مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اس کی عبادت کو بوجھ سمجھ کر اسے اتارنے کی کوشش میں رہتے ہیں جب شہزادی کپڑے کے تہہ کرنے کے انداز کو بدلتا ہوا دیکھ کر اسے پہچان سکتی ہے تو کیا رب العزت ہماری محبت سے پڑھی گئی نماز اور پیچھا چھڑانے والی نماز میں فرق محسوس نہیں کرسکتا فرماتے ہیں کہ دھوبی کا بچہ اس وجہ سے کامیاب ہوا کہ اس کی محبت کو قبول کرلیا گیا لیکن ہماری عبادتوں کا کیا ؟ ہمیں کیا معلوم کہ ہماری نمازیں ہماری عبادتیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوئی یا نہیں اسی لیئے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم آخری رسول ﷺ کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دیا اور سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی نماز کو اپنے آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا اور اسی سے اللہ تعالیٰ کی محبت قائم ہوتی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمیں تاریخ اسلام میں ایسے کئی اولیاء کرام اور بزرگان دین کے بارے میں پڑھنے کو ملتا ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کی پیروی کرنے میں گزاری لیکن اگر چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے کبھی کسی ایسے شخص سے ملاقات ہوجاتی جسے وہ اپنے سے زیادہ اللہ رب العزت کے قریب محسوس کرتے تو بڑے سے بڑے مقام کے ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے آپ کو بہت چھوٹا اور کم تر سمجھتے تھے اور انہیں یہ احساس ہوتا تھا کہ کوئی ہے جو اللہ سے محبت ان سے زیادہ کرتا ہے کوئی ہے جو اللہ رب العالمین کے قریب ہم سے بھی زیادہ ہے جیسے حضرت بہلول دانا علیہ الرحمہ کا نام تو یقیناً آپ لوگوں نے سنا ہوگا وہ درویش صفت صوفی انسان تھے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں رہنا اور اس کا ہی ذکر کرنا ان کا معمول تھا ایک دفعہ وہ ایک جگہ سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ کچھ بچے اخروٹ سے کھیل رہے ہیں آپ رک گئے اور بچپن کے خوبصورت لمحات کو یاد کرنے لگے کہ اچانک ان کی نظر ایک بچے پر پڑی جو سائڈ میں اکیلا کھڑا تھا آپ علیہ الرحمہ سمجھے کہ شاید اس کے پاس اخروٹ نہیں ہیں اس لیئے یہ اداس ہے لہذہ اس کے پاس پہنچے اور پوچھا کیا ہوا تم کیوں نہیں کھیل رہے کیا تمہارے پاس اخروٹ نہیں ہیں ؟ کوئی بات نہیں میں لیکر آتا ہوں لیکن اس کے جواب نے حضرت بہلول کو لاجواب کردیا اس نے کہا کہ اے بہلول کیا ہم دنیا میں کھیلنے آئے ہیں؟ بہلول نے کہا کیا مطلب ؟ اس نے کہا کہ ہم دنیا میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیئے آئے ہیں تو بہلول کو اس بچے سے اس طرح کی بات کرنے کی توقع نہیں تھی وہ بولے بیٹا ابھی تم چھوٹے ہو ابھی عمر پڑی ہے ابھی تم کھیلو تو اس نے کہا کہ اے بہلول مجھے دھوکا نہ دو میں روز دیکھتا ہوں کہ جب میری ماں صبح آگ جلاتی ہے تو پہلے چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کو ڈالتی ہے پھر بڑی لکڑیوں کا استعمال کرتی ہے مجھے ڈر ہے کہ بروز محشر جب جہنم کی آگ جلانے کا حکم ہو تو سب سے پہلے مجھ جیسے چھوٹے بچے کو نہ ڈالا جائے بہلول دانا اس چھوٹے سے بچے کے منہ سے اتنی بڑی اور گہری بات سن کر اسی وقت بیہوش ہوگئے ۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس کے دل میں اپنا خوف اور اپنی محبت پیدا کردے تو پھر وہ چاہے چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو محبت الٰہی میں سرشار ہوکر وہ ایسی باتیں کرجاتا ہے جو وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے آج کے اس معاشرے میں جب کسی کو کسی سے محبت ہو جائے تو پھر ان میں تیسرے کی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ تیسرے کے آجانے سے معاملات بگڑ جاتے ہیں بالکل اسی طرح ہمارے رب تعالیٰ کی محبت میں بھی اللہ تعالیٰ کو اپنے اور محبت کرنے والے بندے کے درمیان کسی تیسرے کا آنا پسند نہیں ہوتا کیونکہ رب العزت کو جب کوئی اس سے محبت کا دعویٰ کرے تو پھر اس محبت کے بیچ میں دنیا یا دنیادار کا شامل ہونا کسی طرح بھی گوارہ نہیں اور ویسے بھی محبت الٰہی میں محو شخص ایک عجیب دنیا کا باسی ہوجاتا ہے اسے ہر جگہ ہر لمحہ بس صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی یاد ہی زندہ رکھے ہوئے ہوتی ہے باقی کسی شہہ یا کسی دنیاوی شخص کی اسے کوئی حاجت نہیں ہوتی دنیوی اعتبار سے لوگ اسے دیوانہ درویش اور نہ جانے کیا کچھ کہتے نظر آتے ہیں ۔
جناب حضرت میاں میر علیہ الرحمہ جو ایک بہت اعلی صوفی بزرگ تھے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں سفر میں تھا سفر کے دوران ایک جگہ میری نظر چار قلندروں پر پڑی جو ایک نشیبی مقام پر خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے قلندروں کی صحبت میں رہنے کی بڑی خواہش تھی لہذہ میں بھی ان کے پاس جاکر بیٹھ گیا میں دیکھتا کہ ایک درویش روزانہ درختوں کے پتے توڑ کر لاتا ، انہیں ابالتا اور پھر سب مل کر وہی پتے کھاتے چار روز تک ان کا معمول یہ ہی رہا پانچویں دن جب کوئی اپنی جگہ سے نہ اٹھا تو میں سمجھ گیا کہ آج میری باری ہے لہذہ میں بھی پتے توڑکر لایا ابالے اور سب کے سامنے رکھ دیئے اس طرح مجھے ان کے ساتھ نو دن گزارنے کا موقع ملا دسویں دن شدید بارش شروع ہوگئی لیکن کوئی اپنی جگہ سے نہ ہٹا اس لیئے میں بھی بیٹھا رہا پانی بڑھتے بڑھتے ہمارے گلے تک آپہنچا تھا لیکن سارے درویش بڑے سکون کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے مجھے ڈوبنے کا خیال دل میں آیا تو میرے منہ سے نکلا کہ ” میرے رب کیا ہم اسی طرح ڈوب جائیں گے ؟” یہ خیال آتے ہی پانی فوراً نیچے اتر گیا یہ منظر دیکھتے ہی ان چار قلندروں نے کہا کہ ہم میں سے کسی نے اللہ تعالیٰ کے قدرت کے کارخانے میں دخل اندازی کی ہے ؟ پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ خیال میرے دل میں آیا تو وہ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ "جس ذات نے پانی بھیجا تھا، کیا اسے معلوم نہ تھا کہ ہم یہاں بیٹھے ہیں؟ تمہیں اس سے زیادہ فکر لاحق ہوگئی!” اس کے بعد انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم ابھی ہماری صحبت کے اہل نہیں ہو ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں شدید بارش میں پانی کا گلے تک پہنچ جانا اور اس کے بعد بھی چاروں قلندروں کا اپنی جگہ پر قائم رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد اور بھروسہ تھا انہیں اس بات پر بھی یقین تھا کہ یہ سب کچھ رب العزت کی حکمت اور مشیت کے تحت ہورہا ہے حالانکہ حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کا خیال اگرچہ انسانی فطرت کے عین مطابق تھا، لیکن ان درویشوں کے نزدیک رضا و تسلیم کے اس بلند مقام پر یہ بھی قدرتِ الٰہی کے فیصلے میں دخل اندازی محسوس ہوئی۔ مطلب یہ جو لوگ اپنے ہر عمل کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضااور محبت کے لیئے کرتے ہیں تو انہیں کسی بات کا ڈر یا خوف نہیں ہوتا کیونکہ ان کی زندگی اور ان کی موت سب کچھ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیئے ہے اور ایسے لوگوں کو ہی درویش اور قلندر جیسے منصب سے پکارا جاتا ہے یہاں ایک بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اہلِ اللہ کی صحبت انسان کے دل کو زندہ کرتی، ایمان کو تازگی بخشتی اور اللہ تعالیٰ کی معرفت میں اضافہ کرتی ہے۔ حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کا ان دس دنوں کو اپنی زندگی کا حاصل کہنا ان کی عاجزی و انکساری کی ایک بہترین مثال ہے اس مختصر مگر جامع واقعہ سے ہمیں محبت الٰہی کا جو سبق ملا وہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں صرف اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھا جائے اسی کے فیصلوں پر راضی رہا جائے زندگی کے ہر معاملے میں عاجزی و انکساری اختیار کی جائے جتنا ہوسکے نیک لوگوں کی صحبت میں وقت گزارا جائے اور زندگی کے ہر معاملے میں اس رب العزت کی حکمت پر مکمل یقین رکھا جائے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اصل میں ہم جس معاشرے میں اپنے زندگی گزارنے میں مصروف عمل ہیں یہاں عشق کو ایک مخصوص پیرائے میں دیکھا جاتا ہے جبکہ عشق کے حقیقی معنی اگر جاننے ہوں تو اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کیجیئے جہاں آپ کو کہیں مرید کا اپنے پیرو مرشد سے عشق صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اپنے آقا و مولا حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق تو کہیں حضور ﷺ کا اپنے رب سے بیپناہ عشق دکھائی دے گا اپنی آج کی تحریر ” محبت الٰہی ” کے اختتام میں عشق کی ایک اور منفرد شکل آپ کے سامنے رکھنے کی سعادت حاصل کروں گا حضرت مولانا رومی علیہ الرحمہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں فرماتے ہیں کہ ایک دن میں بازار میں کچھ خریدوفروخت کے لیئے ایک دوکان پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک خاتون وہاں سے کچھ سامان خرید رہی تھیں جب وہ سامان خرید چکی تو اس نے کہا کہ کتنے پیسے ہوگئے تو دوکاندار نے مسکراتے ہوئے کہا ایک طرف تم محبت کا دعویٰ کرتی ہو اور دوسری طرف پیسوں کا ذکر عشق میں پیسوں کا کوئی ذکر نہیں سامان لو اور جائو مولانا رومی علیہ الرحمہ نے جب ان عاشق معشوق کی باتیں سنی تو غش کھا کر گر پڑے اور بیہوش ہوگئے پھر انہیں ہوش آیا تو دوکاندار نے پوچھا کہ مولانا صاحب آپ کیسے بیہوش ہوگئے ؟
تو مولانا رومی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ تم دونوں کا عشق اتنا مظبوط ہے کہ تمہارے درمیان کوئی حساب کتاب نہیں یعنی سامان بھی دیا اور کہا کہ عشق میں کیسا حساب ؟ جبکہ میرے رب سے میرا عشق اتنا کمزور ہے کہ میں تسبیح بھی پڑھتا ہوں تو گن گن کر ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مولانا رومی علیہ الرحمہ کے اس مختصر واقعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگان دین عشق کو کس گہرائی سے ناپتے تھے اور انہیں اپنے رب سے عشق پر اتنا مضبوط بھروسہ ہوتا ہے کہ جب بھی وہ عشق کو کہیں بھی کسی بھی شکل میں دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں تو انہیں اپنے رب سے عشق میں کہیں کمزوری نظر آنے لگتی ہے اور پھر وہ اپنے رب کے عشق میں مزید ڈوب کر مزید گہرائی میں جاکر اسے مظبوط بنانے میں لگ جاتے ہیں ۔ میرے محترم پڑھنے والوں زندگی میں سب سے اہم کام اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ہے کیونکہ محبت الٰہی ہی ہمارے لیئے دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے اور محبت الٰہی کو پانے کے لیئے اطاعت رسول ﷺ زیادہ ضروری ہے اور یہ بات میں نہیں کہتا بلکہ اللہ رب العزت نے خود قرآن مجید میں فرمایا اس آیت میں جس کا حوالہ میں نے شروع میں دیا ہے یعنی سورہ العمران کی آیت 31 ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں محبت الٰہی اور اطاعت رسول ﷺ کو اپنی زندگی بنا لیجیئے پھر دیکھیئے کامیابی آپ کے قدم کس طرح چومتی ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا

محمد یوسف میاں برکاتی 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button