آپ کا سلاماردو غزلیاتجاوید مہدیشعر و شاعری

یہ جو غربت کا مارا لگ رہا ہے

جاوید مہدی کی ایک اردو غزل

یہ جو غربت کا مارا لگ رہا ہے
محبت میں بھی ہارا لگ رہا ہے

نجانے آسماں پر کیا ہے روشن
زمیں سے تو ستارا لگ رہا ہے

حقیقت میں ہمارا کچھ نہیں، پر
ہمیں سب کچھ ہمارا لگ رہا ہے

میاں یہ آنکھ طے کرتی ہے ہم کو
کوئی کب کتنا پیارا لگ رہا ہے

کبھی فرصت میں یاد آئیں گے تم کو
ابھی تو دل تمہارا لگ رہا ہے

جاوید مہدی

post bar salamurdu

جاوید مہدی

قلمی نام جاوید مہدی میں سیالکوٹ شہر کے علاقے سیدپور روڑ پر واقع ایک قصبہ چک امبو میں مقیم ہوں شعر کہنے کا شوق ہے۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button