اردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے
تم لوگ منافق ہو منافق بھی بلا کے

کیوں ضبط کی بنیاد ہلانے پہ تلا ہے
میں پھینک نہ دوں ہجر تجھے آگ لگا کے

اک زود فراموش کی بے فیض محبت
جاؤں گی گزرتے ہوئے راوی میں بہا کے

اس وقت مجھے عمر رواں درد بہت ہے
تجھ سے میں نمٹتی ہوں ذرا دیر میں آ کے

میں اپنے خد و خال ہی پہچان نہ پائی
گزرا ہے یہاں وقت بڑی دھول اڑا کے

کرتی ہوں تر و تازہ ہری رت کے مناظر
کاغذ پہ کبھی پیڑ کبھی پھول بنا کے

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

ایک تبصرہ

سائرہ بنگش کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button