آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

صبر , گریہ , نہ یوں اچھال مرا

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

صبر , گریہ , نہ یوں اچھال مرا
آسماں کچھ تو کر خیال مرا

دیکھتے کیوں نہیں مری آنکھیں
پوچھتے کیوں ہو, مجھ سے حال مرا

کاش تُو مجھ کو یاد رکھ پائے
کاش اک شعر ہو کمال مرا

بےسبب تو نہیں اذیت دے
بے سبب تو کہا نہ ٹال مرا

مت سنا پیڑ سوکھ جائیں گے
دوست قصہ ء پائمال مرا

نیند کو خواب سے الجھنے تک
بدنگاہی غبار پال مرا

لوگ من کی مراد پاتے ہیں
رد ہوا تھا جہاں سوال مرا

اس حسیں وہم کے بھی کیا کہنے
یاد کرتا ہے خوش جمال مرا

جن کے در کا گدا ہوں میں ارشاد
دھیان رکھتی ہے ان کی آل مرا

ارشاد نیازی

post bar salamurdu

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button