آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعثمان اقبال خان

چراغ حوصلہ رکھیں شباب آئے گا

عثمان اقبال خان کی ایک اردو غزل

چراغ حوصلہ رکھیں شباب آئے گا
شکست شب کے لیے مہتاب آئے گا

کسے خبر تھی سمندر وجود کھو دیں گے
کسے خبر تھی یہاں بھی سراب آئے گا

یہ شاخ جس کو دبایا ہوا ہے پتھر نے
اسی پہ دیکھنا اک دن گلاب آئے گا

یہاں سے کوئی خسارا ہی لے کے لوٹے گا
اگر کبھی میری آنکھوں میں خواب آئے گا

یونہی نہیں ہیں مری وحشتیں سر صحرا
اسی سبب سے یہاں انقلاب آئے گا

رکا ہوا ہوں کنویں پر اس آس میں عثمان
مرا وجود سر سطح آب آئے گا

عثمان اقبال خان

post bar salamurdu

عثمان اقبال خان

عثمان اقبال خان سیالکوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button