آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزثوبیہ نورین نیازی

عزت صحت اور محبت

ایک اردو تحریر از ثوبیہ نورین نیازی

ہم پہ ہونے والے ہر کرم کے پیچھے رب کریم کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کی خاص مہربانی اور خاص نظر اپنی رحمت کے حصار میں رکھتی ہے لیکن کچھ ایسے انعامات اور برکات ہوتی ہیں جو وہ براہ راست ہمیں اپنے دیار رحمت سے دیتا ہے۔عزت صحت اور محبت۔ یہ ایسے انعامات ہیں جن کا حصول انسان اپنی محنت اور کاوش سے کم اور اس کے کرم اور فضل سے زیادہ حاصل کرتا ہے وہ جسے چاہے عزت دے، جسے چاہے ذلت دے۔ اس کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ بےشک ہر چیز پہ قدرت رکھتا ہے۔ اس کی خاص رحمت ہو تو انسان دوسرے انسان کی نگاہ میں عزت حاصل کر پاتا ہے، معاشرے میں مقام پا سکتا ہے۔انسان کا بس یہ فرض بنتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کی عزت کرے، اس کی تکریم کو مقدم سمجھے، اسے نیچا دکھانے کی کوشش نہ کرے۔ پھر اس کی عزت بڑھے گی وہ معتبر رہے گا۔ صحت رب کریم کی ایسی خاص عطا ہے جس کے گرد سارا نظام زندگی گردش کرتا ہے۔ صحت ہو تو عبادت ہو سکتی ہے صحت ہو تو محبت اور رشتے نبھانے کی توفیق ملتی ہے۔ایک انسان کے لیے ایک سانس پہ دو شکر واجب قرار دئیے گئے ہیں۔

ایک سانس اندر جانے کا ایک سانس باہر آنے کا۔ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے انخلا اور اخراج پہ دو شکر واجب ہیں۔ اس نعمت کا احساس ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب ہم پہ سانس لینے میں کوئی مشکل پیش آتی ہو یا اس ایک ایسے انسان کو دیکھ کے جس کا سانس منتشر ہوا ہو یا جسے آکسیجن کا سلنڈر ساتھ لیے زندگی کی سانسیں پوری کرنی پڑ رہی ہوں۔ پھر ہم سوچتے ہیں کتنے ان گنت سانس وہ ہمیں بلا معاوضہ بلا کسی کوشش کے عطا کر رہا ہے۔ ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ زندگی کے کئی حقائق ایسے ہیں جو انسان کے سامنے اس وقت آتے ہیں جب وہ اپنی طبعی عمر میں پختگی حاصل کرتا ہے۔ تجربہ کبھی کبھی علم سے بڑھ کے معانی خیز ہوتا ہے، وہ تجربہ جو انسان دوسرے انسان سے حاصل کرتا ہے کسی فیص یاب اور کرم یافتہ کے قرب میں وقت گزارتا ہے اس کے من میں جلے دیئے سے کچھ روشنی مستعار لیتا ہے۔ ہمیں اکثر خود پہ ہوئے انعامات کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ ہم سے چھننے لگتے ہیں یا ان میں کمی ہوتی ہے۔ جب ہمیں کسی نعمت میں فراوانی حاصل ہو تو اس کی قدر نہیں کر پاتے، بے قدری کرتے ہیں۔بیماری اور اچھی صحت انسان کے ساتھ ساتھ ہی ہوتی ہے۔ ایک تو عمر کے ساتھ ساتھ دوسرے صحت مند انسان بھی کبھی کبھی اچانک بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔بیمار سب سے قابل ترس ہوتا ہے اور وہ بیمار جو مفلسی کی اذیت برداشت کر ریا ہو وہ اس سے بھی زیادہ قابل ترس ہوتا ہے۔

اس کی حالت پہ ترس کے ساتھ رحم دلی کا مظاہرہ کرنا ایک بڑی نیکی ہے۔ کل میرے پاس باجی پروین آئی، وہ اکثر مجھ سے ملنے آتی ہے اور میری اوقات سے بڑھ کے دعائیں دے کے جاتی ہے۔ مجھے کبھی کبھی اس کی بیماری کا پتہ نہیں چلتا پھر وہ خود آکے بتاتی ہے۔ مجھے دکھ ہوتا ہے اور شرمندگی بھی کہ میں بےخبر تھی اور وہ بیمار۔کل اس کی باتوں سے اطمینان جھلک رہا تھا۔ میرا بڑے سرکاری ہسپتال میں مفت علاج ہوا ہے میں نے انہیں کہا تھا، میرا کوئی نہیں ہے خود ہی کر دو جو کرنا ہے۔ پھر انہوں نے میرا مکمل علاج کیا۔خون کی بوتلیں بھی لگائی ہیں، مجھے خون کی کمی ہے۔ میرا دل بھی مکمل کام نہیں کر رہا، میرا علاج وہاں تسلی بخش ہو رہا ہے۔اس کی باتیں سن کے میری خوشی اور غم کی ملی جلی کیفیت تھی۔ہمیں ایک دوسرے کے حال سے آگاہ رہنا چاہیئے۔ انسانیت کا رشتہ بڑامقدم رشتہ ہے، کسی بےبس کی دعا آپ کو رب کی نظر میں مقام دلاسکتی ہے، آپ کی راہیں روشن کر سکتی ہے۔ اہل دل ڈھونڈ ڈھونڈ کے ایسے لوگ تلاش کرتے ہیں۔مجھے بھی پچھلے دنوں سرکاری ہسپتال میں اپنی خالہ کے علاج کے لیے جانا پڑا اور اس بات پہ مکمل تسلی اور تشفی تھی کہ علاج بروقت ہو رہا ہے۔ ادویات بھی مفت ہی ملتی ہیں، ماہر ڈاکٹر چیک اپ کرتے ہیں بلکہ ایک مریض کو کئی کئی ڈاکٹر چیک کرنے آتے ہیں حکومت پنجاب اس عمدہ کارکردگی پہ یقینا دلی مبارکباد کی مستحق ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ایک دانشمند اور سرگرم خاتون ہیں ان کی زیر نگرانی عمدہ کام ہو رہا ہے۔ بعد میں بھی فون کر کے پوچھتے ہیں کہ آپ کا علاج ٹھیک ہوا کوئی شکایت تو نہیں۔ریاست کی اہم ذمہ داریوں میں ایک ژمہ داری صحت کی سہولت بہم پہنچانا ہے اس پہ کام ہوتا دیکھ کے اطمینان ہوا۔

صحت مند لوگوں کے نام آج کی اس تحریر میں یہی پیغام ہے کہ وہ جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ وہ اپنی اس صحت مند زندگی کو فعال اور موثر سرگرمیوں میں لگائیں تاکہ وہ خود کے لیے بھی اور اپنے پیاروں کے لیے فائدے مند ثابت ہو سکیں۔عزت صحت اور محبت۔ یہ رب کے خاص انعامات ہیں ان کی قدر کریں۔ ان رحمتوں کے تادیر اور دائمی رہنے کے لیے رب العالمین کا ہر لمحہ شکر ادا کریں شکر نعمتوں کو بڑھاتا ہے، ان کو دوام بخشتا ہے۔ محبت زمین پہ بسنے والے ان بھولے بھالے انسانوں پہ رب کا خاص انعام ہے۔ رب دلوں میں محبت ڈالتا ہے اور جس کے دل میں محبت کا اسم گھل مل جائے وہ دل دل نہیں رہتا کعبہ معلی بن جاتا ہے شرط یہ ہے محبت میں اطاعت ہو، محبت میں عزت ہو، محبت میں خلوص کی چاشنی ہو، محبت میں محب کے لیے جان قربان کرنے کا جذبہ ہو، اس کی آرزو میں ایک کھونٹے سے بندھے رہنے کی ہمت ہو۔ پوری کائنات میں محبت کرنے والوں کے چہرے ایک خاص روشنی اور عجز سے بھرے ملیں گے۔ لوگ ان سے فیض یاب ہوں گے ان کے پاس بیٹھیں گے تو رب یاد آئے گا، پر اضطراب لمحے سکون میں بدلنے لگیں گے وقت کے گزرنے کا احساس نہیں ہو گا۔محبت ہے وجہ تخلیق انسان محبت سے آباد دل کا گلستان محبت سے بڑھ کے نہیں کوئی طاقت محبت ہے تقوی، محبت ہے ایمان۔محبت سے رونق حرم میں ہے ہر دم محبت سے آباد طیبہ کی گلیاں۔

ثوبیہ نورین نیازی

بشکریہ نوائے وقت 

post bar salamurdu

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔ ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب" شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔ معاون ایڈیٹر: برج میڈیا یو ایس اے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button