ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا
ہزار چہرے ملے، دکھ مگر سنا نہ سکا
میں رات بھر فون پہ اک نام دیکھتا ہی رہا
جسے پکارنا چاہا، اُسے کبھی بلا نہ سکا
کسی نے پوچھ لیا، خیریت تو ہے نا؟
سر ہلا تو دیا، کھل کے مسکرا نہ سکا
وہ سامنے تھا، مرے دل میں کتنی باتیں تھیں
مگر میں اُس سے نگاہیں بھی تو ملا نہ سکا
مرے مکان میں روشن تھے سب دریچے مگر
میں اپنے اندر کا اک بھی دیا جلا نہ سکا
وہ خط جو میں نے لکھا تھا کبھی جدائی میں
میں اُس کو پھاڑ تو آیا، مگر بھلا نہ سکا
چراغ بجھ گئے، گلیاں بھی سو گئیں آخر
میں اپنے دل میں اُٹھے شور کو دبا نہ سکا
میں اپنے آپ سے ملنے نکل پڑا تھا مگر
ہجومِ ذات میں خود کو کہیں بھی پا نہ سکا
یہ حسرت بھی میرے ساتھ خاک ہو جائے گی
میں جس کو چاہتا تھا، اُسے کبھی بتا نہ سکا
حسنؔ تو شہر بھر کو شعر سناتا رہا مگر
اُسی کے سامنے دل کی غزل سنا نہ سکا
میر حسن








