آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکاشف حسین غائر

غلط نہیں ہے کسی کو یہ مشورہ دینا

کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل

غلط نہیں ہے کسی کو یہ مشورہ دینا
کہ حبس بڑھنے لگے تو دِیا جلا دینا

ہَوائے وصل بھٹکتی ہوئی سرِ راہے
کہیں ملے تو ہمارا پتا بتا دینا

کھڑے ہوئے ہیں پسِ کاروانِ تنہائی
کسی سے کیسے کہیں ہم کہ راستہ دینا!

یہ کارِ عشق سراسر زیاں کا سودا ہے
زیاں نہ ہو تو یہ دوکانِ دل بڑھا دینا

کہاں ملیں گے تمھیں ہم سے قدر دانِ سخن
میاں جو شعر بھی لکھّو ہمیں سنا دینا

مزاجِ دل زدگاں بھی عجیب ہے غائر
جہاں بھی بیٹھنا اک مسئلہ اُٹھا دینا

کاشف حسین غائر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button