آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریضیا مذکور

بول پڑتے ہیں ہم جو آگے سے

ضیا مذکور کی ایک اردو غزل

بول پڑتے ہیں ہم جو آگے سے
پیار بڑھتا ہے اِس رویے سے

میں وہی ہوں یقیں کرو میرا
میں جو لگتا نہیں ہوں چہرے سے

ہم کو نیچے اتار لیں گے لوگ
عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے

سارا کچھ لگ رہا ہے بے ترتیب
ایک شے آگے پیچھے ہونے سے

ویسے بھی کون سی زمینیں تھیں
میں بہت خوش ہوں عاق نامے سے

یہ محبت وہ گھاٹ ہے، جس پر
داغ لگتے ہیں کپڑے دھونے سے

ضیا مذکور

post bar salamurdu

ضیا مذکور

نام ضیاءالقمر قلمی نام ضیا مذکور آبائی شہر بہاول پور تعلیم بی اے آنرز انگریزی پیشہ لیکچرار انگریزی ایم ٹی بی کالج صادق آباد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button