آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکرن منتہیٰ

دیجے نہ داد شوخ بیانی کو دیکھ کر

کرن منتہیٰ کی ایک اردو غزل

دیجے نہ داد شوخ بیانی کو دیکھ کر
تعریف کیجے مصرعِ ثانی کو دیکھ کر

نعمت ملی تھی سہنے کی طاقت سے ماورا
صحرا نشین مر گئے پانی کو دیکھ کر

ماتھے پہ ثبت بوسہ نمودار ہوگیا
رسنے لگے ہیں زخم ، نشانی کو دیکھ کر

پہلے بھی اشک بار تھیں آنکھیں مری مگر
حیران ہوں میں اب کہ روانی کو دیکھ کر

بحثیں چھڑی تھیں صلح کی اور دونوں بادشاہ
بیٹھے بٹھائے لڑ پڑے رانی کو دیکھ کر

میں چپ رہی ، پرندوں نے محشر بپا کیا
یکدم تمہاری نقل مکانی کو دیکھ کر

بیٹھے ہوئے تھے تاک میں جوگی چھپے ہوئے
آئے تھے سانپ رات کی رانی کو دیکھ کر

لگتا ہے جیسے میر کی جاگیر لٹ گئی
جدت کے دھن میں لغو بیانی کو دیکھ کر

کرن منتہیٰ

post bar salamurdu

کرن منتہیٰ

کرن منتہیٰ کا تعلق خوشاب سے ہے نسائی لہجے کی توانا شاعرہ ہیں لاہور میں مقیم ہیں جہاں ایک ٹی وی پر اینکر ہیں نوجوان نسل کی نمائندہ شاعرہ ہیں کرن منتہیٰ نے اپنی شاعری اور خوبصورت ادائی سے اپنے ہونے کا بہت توانا اعلان کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button