آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

ہم اہلِِ مہر و محبت طلب، رسد کے نہیں

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

ہم اہلِِ مہر و محبت طلب، رسد کے نہیں
ہمیں قبول کئی فیصلے خرد کے نہیں

کبھی طویل کبھی مختصر مرا سایہ
یہ روشنی کے مسائل ہیں، میرے قد کے نہیں

مقامِِ بدر پہ یہ راز آشکار ہوا
خدا یقین کے ہمراہ ہے، عدد کے نہیں

جہانِ حرف کے جعلی خداؤ دیکھ لو ہم
سخن کے بل پہ کھڑے ہیں کسی سند کے نہیں

انہی میں خوابُِ دریدہ کے ہیں ، یقین کے بھی
تمام ٹکڑے خدایا، دعاۓ رد کے نہیں

وہ لم یلد ہے، احد ہے، وہی ولم یولد
تو کیا یہ رنگ سبھی رب الصمد کے نہیں

بدن گلاب ، نگاہیں شراب، غنچہ دہن
یہ دلبری کے فضائل ہیں خال و خد کے نہیں

مجھے بچا کے دکھائیں وہ ہجر کی حرمت
جو لوگ وصل میں قائل کسی بھی حد کے نہیں

مجھے پتہ ہے بہتر (72) نفوس کربل میں
خدا کے وصل کے طالب ہوئے، مدد کے نہیں

یہاں قبول ہے محبوب سب عیوب سمیت
جہانِ عشق میں جھگڑے یہ نیک و بد کے نہیں

کمال یہ ہے کہ اظہر مرے رقیبوں سے
معاملات محبت کے ہیں ، حسد کے نہیں

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button