اردو غزلیاتایلزبتھ کورین موناشعر و شاعری

جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا

ایلزبتھ کورین مونا کی ایک اردو غزل

جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا

لوٹ جاتا ہے پھر کدھر تنہا

کچھ دعا بھی تو ہو مریض کے نام

کب دوا کا ہوا اثر تنہا

مدتوں خود کو ہی تراشا ہے

سیپ میں رہ کے اک گہر تنہا

عمر بھر سب کے کام آیا جو

رو پڑا خود کو دیکھ کر تنہا

سب مسرت میں ساتھ دیتے ہیں

غم اٹھائیں گے ہم مگر تنہا

ترک الفت جو اس نے کی ہم سے

تھامتے ہم رہے جگر تنہا

چھاؤں میں بیٹھ کر گئے ہیں سبھی

رہ گیا پھر سے اک شجر تنہا

کہکشاں بھی ہے اور تارے بھی

چاند آتا ہے کیوں نظر تنہا

یادوں کے کارواں ملے ہم سے

خود کو سمجھے تھے ہم جدھر تنہا

چار پل وصل کے جو بیت گئے

خود کو پایا ہے کس قدر تنہا

بیچ اپنوں کے رہ کے بھی موناؔ

زندگی ہم نے کی بسر تنہا

ایلزبتھ کورین مونا

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button