آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعلی کوثر

کوئی یقین نہ رکھتا فقط گماں رکھتا

علی کوثر کی ایک اردو غزل

کوئی یقین نہ رکھتا فقط گماں رکھتا
میں اپنے سارے مناظر دھواں دھواں رکھتا

خدا کا شکر کہ سینہ مجھے میسر تھا
وگرنہ دل کے پرندے کو میں کہاں رکھتا

میرے شعور میں ڈھیروں چراغ جل اٹھتے
تیرے خیال کے پرتو کو میں جہاں رکھتا

تیرے حضور میں آ کر یہ سوچتا ہوں میں
کہ لفظ چھوڑ کے آتا فقط فغاں رکھتا

یہ رائیگانی تھی سو اس لئے علی کوثر
مجھے یہ زیب تھا میں خود کو رائیگاں رکھتا

علی کوثر

post bar salamurdu

علی کوثر

میرا تعلق گوجرانولہ سے ہے - میں ملازمت پیشہ ہوں اور بیکن ہاؤس سے منسلک ہوں -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button