اردو نظمپروین شاکرشعر و شاعری

اپنی زمین کے لیے ایک نظم

پروین شاکر کی ایک اردو نظم

اپنی زمین کے لیے ایک نظم

خواب،آنکھوں کی عبادت ہیں
گئی رات کے سناٹے میں
اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں
گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں
خواب کے رنگ ڈھنگ سے بڑھ کر
کبھی پلکوں پہ ستارہ،کبھی آنکھوں میں سحاب
کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب
کبھی زخموں کا،کبھی خندۂ گل کا موسم
کبھی تنہائی کا چاند اور کبھی پچھلے پہر کی شبنم
خواب،جو تجزیۂ ذات ہوئے
ان کو جب فرد کی نیندوں کی نفی کر کے لکھا جائے
تو اک قوم کا ناقابل تردید تشخص بن جائیں !
وہ خزاں زاد تھا
اور بنتِ بہار
اُس کی آنکھوں کے لیے خوابِ حیات
اپنے اس خواب کی تقدیس بچانے کے لئے
وہ اماوس کی گھنی راتوں میں
رت جگا کرتا رہا
اورایسے،کہ نیا موسمِ گُل آیاتوسب نے دیکھا
جھلملاتے ہُوئے اِک تارے کی اُنگلی تھامے
چاند پرچم پہ اُتر آیا ہے
سنگریزوں میں گلاب اُگتے ہیں
شہرِ آذر میں اذاں گونجتی ہے
خوشبو آزاد ہے
جنگل کی ہَوا بن کے سفر کرتی ہے
نئی مٹی کا،نئی خواب زمینوں کا سفر
یہ سفر____رقصِ زمیں ،رقصِ ہَوا،رقصِ محبت ہے
جواَب لمحہ موجود تک آ پہنچا ہے

پروین شاکر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button