آغا حشر کاشمیری
آغا حشر کی پیدائش بروز جمعرات 4 اپریل 1879ء کو ہوئی۔کلیاتِ آغا حشرؔ کے مرتبین کی رائے میں آغا حشر کی پیدائش 3 اپریل اور 4 اپریل 1879ء کی درمیانی شب میں ہوئی[6]۔ اُن کے والد آغا محمد غنی شاہ کشمیری پہلے سرینگر میں شال دوشالہ کی تجارت کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ ایک عرصہ تک وہ بسلسلۂ تجارت وہیں مقیم رہے۔ بعد ازاں انھوں نے مستقل سکونت اِختیار کرلی جس کی خاص وجہ یہ تھی کہ وہاں فنکاری کے قدردان نسبتاً زیادہ تھے اور اُن کا شال دوشالہ کا کاروبار بخوبی چل سکتا تھا۔
آغا صاحب اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ڈرامے لکھا کرتے تھے- ان کے زیادہ تر ڈرامے شکسپئیر سمیت دیگر انگریزی ڈرامہ نگاروں کے ڈراموں سے اخذ تھے- اردو اور ہندی کے علاوہ فارسی کے تھیٹرز پر بھی ان کے ڈرامے کھیلے گئے- آغا صاحب نے تیس سے زیادہ ڈرامے لکھے تھے- ” آنکھ کا نشہ” کے نام سے ان کا ایک ڈرامہ جب اسٹیج پر چلایا گیا تو لوگوں کے دلوں پر اس کا گہرا اثر ہوا- اور کافی لوگوں نے شراب نوشی سے توبہ کرلی-ان کے مشہور ڈراموں میں “شیریں فرہاد’‘ ’’عورت کا پیار ‘’ ’’یہودی کی لڑکی‘‘ ’’قسمت کا شکار’‘ ’’چنڈی داس’‘ ’’دل کی آگ’‘ ’’شہیدِ فرض’‘ ’’بلوا منگل ‘‘ ’’لوکش’‘ ’’رستم وسہراب’‘ او ر ’’بھیشم پتاما’‘ “آنکھ کا نشہ” اسیرِحرص’‘ ’’مریدِ شک’‘ ’’صیدِ ہوس’‘ ، ’’شہیدِ ناز’‘ ’’سفید خون’‘ ’’خوابِ ہستی” شامل ہیں-
آغا صاحب 28 اپریل 1935 کو لاہور میں انتقال کرگئے- اور یوں اردو ادب میں ڈراموں کا ایک بے مثال دور اختتام کو پہنچا-
-

گاہ درد و رنج و غم ہے
آغا حشر کاشمیری کی ایک اردو غزل
-

غیر کی باتوں کا آخِر اِعتِبار آ ہی گیا
آغا حشر کاشمیری کی ایک اردو غزل
-

یقین اُن کی عنایت کا زی نہار نہ کر
آغا حشر کاشمیری کی ایک اردو غزل
-

چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی
آغا حشر کاشمیری کی ایک اردو غزل
-

تم اور فریب کھاؤ
آغا حشر کاشمیری کی ایک اردو غزل
-

یاد میں تیری جہاں کو
آغا حشر کاشمیری کی ایک اردو غزل
-

سُوئے میکدہ نہ جاتے
آغا حشر کاشمیری کی ایک اردو غزل
-

سفید خون
ایک اردو ڈرامہ از آغا حشرؔ کاشمیری