اردو غزلیاتایوب خاورشعر و شاعری

عشق نے کیا کیا رنج سہے تم کیا جانو

ایوب خاور کی اردو غزل

عشق نے کیا کیا رنج سہے تم کیا جانو
آگ میں کتنے پھول کھلے تم کیا جانو

ہجر کی کالی رات میں کیسے کیسے لوگ
خاک میں مل کر خاک ہوئے تم کیا جانو

ہم نے ایک تمھارے نام کی خوشبو سے
کتنے دشت بہار کیے تم کیا جانو

اپنی کتابِ عمر کی ساری سطروں میں
ہم نے کس کے خواب لکھے تم کیا جانو

تم بچھڑے تو ہم نے اپنی پلکوں پر
کتنے دریا روک لیے تم کیا جانو

سُر کی چھاؤں میں لفظ کی کلیاں کھلنے تک
ہم تو سب کچھ بھول گئے تم کیا جانو

ایوب خاور

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button