اردو غزلیاتافتخار شاہدشعر و شاعری

صدائے شوق ، سکوتِ لبی سے شرمندہ

افتخار شاہد کی ایک غزل

صدائے شوق ، سکوتِ لبی سے شرمندہ
تمام عمر رہے ہیں کسی سے شرمندہ

میں خود کو آج ذرا سا سنوار لیتا ہوں
کہ آئینے ہیں مری سادگی سے شرمندہ

ہماری چیخ سے ٹوٹی نہیں ہیں زنجیریں
یہی سبب ہے کہ ہم ہیں ہمی سے شرمندہ

ہم اپنی خاک جہاں میں اڑائے پھرتے ہیں
اے شہرِ یارتمہاری گلی سے شرمندہ

ہم اس صدی میں بھی منزل سے آشنا نہ ہوئے
یہ اور بات ھے پچھلی صدی سے شرمندہ

ہے میرے پاس یہ لُکنت زدہ زباں شاھد
اے میرے شوخ تری نغمگی سے شرمندہ

افتخار شاھد

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button