محمد حسین آزاد
(5 مئی 1830 – 22 جنوری 1910) ایک اردو مصنف اور اسکالر تھے جنہوں نے نثر اور شاعری دونوں لکھے، لیکن زیادہ تر اپنے نثر کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کا سب سے مشہور کام آب حیات ("زندگی کا امرت”) ہے۔
آزادؔ ایک اہم انشاپرداز، ناقد اور محقق بھی تھے انہوں نے زبان اردو کی تاریخ اور نشو ونما، اصلیت زبان پر تحقیقی مضامین بھی لکھے ۔
محمد حسین آزاد نظم کے اولین شاعروں میں بھی ہیں جنہوں نے صرف نظمیں لکھیں بلکہ نظم نگاری کو ایک نئی جہت بھی عطا کی اردو نثر اور نظم کو نیا مزاج عطا کرنے والے محمد حسین آزاد پر آخری وقت میں جنون اور دیوانگی کی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔ جنون کی حالت میں ہی ان کی شریک حیات کا انتقال ہو گیا۔ اس کی وجہ سے آزادؔ کا اضمحلال اور بڑھتا گیا۔ آخر کار ۲۲؍ جنوری ۱۹۱۰ عیسوی میں آزاد ۹۶ سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کا مزار داتا گنج کے قریب ہے۔
محمد حسین آزادؔ نے اپنی زندگی کا سفر انگریزوں کی مخالفت سے شروع کیا تھا۔ وہ اپنے والد کے اخبار میں انگریزوں کے خلاف سخت مضامین لکھتے رہتے تھے۔ مخالفت کی پاداش میں جب انگریزوں نے ان کے والد کو موت کے کھاٹ اتار دیا وہیں زاویہ تقرری تبدیلی کی وجہ سے علم دوست انگریزوں نے محمد حسین آزادؔ کو حیات جاودانی عطا کر دی اور انہیں شمس العلماکا خطاب بھی عطا کیا۔
-

موجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

فیلا لوجیا
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

سیر عدم
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

علمیت اور ذکاوت کے مقابلے
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

اردو اور انگریزی انشاپردازی پر کچھ خیالات
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

علوم کی بدنصیبی
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

موسموں کی بہار – انشا پردازی پر اثر
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

جنت الحمقاء
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

آغاز آفرینش
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

در باب نظم اور کلام موزوں
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

گلشن امید کی بہار
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

سیر زندگی
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

شہرت عام اور بقائے دوام کا دربار
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون
-

انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا
محمد حسین آزاد کا ایک اردو مضمون