8 جون, 2020

    صبحِ نو روز

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    23 دسمبر, 2025

    کب تم بھٹکے کیوں

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    4 نومبر, 2020

    ترے خیال کو بھی فرصتِ خیال نہیں

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    21 جون, 2020

    غم اور خوشی کے راستے آ کر جہاں ملے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    فاصلہ دل کا مختصر ہے ابھی

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    تجھ کنے بیٹھے گھٹا جاتا ہے جی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 مئی, 2020

    آدھی رات کے شاید سپنے جھوٹے تھے

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    27 مئی, 2020

    درونِ خواب نیا اک جہاں ، نِکلتا ہے

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    31 مئی, 2020

    جا تجھے دل ربا معاف کیا

    حسیب بشر کی ایک غزل
    12 جنوری, 2020

    درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    8 اپریل, 2020

    یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے

    احمد فراز کی ایک اردو غزل
    8 مئی, 2026

    ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں جاتا

    سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    اب کسی بات پہ کیا اُس سے خفا ہونا ہے

    ایوب خاور کی اردو غزل
    24 جون, 2020

    گر ہو سلوک کرنا انسان کر کے بھولے

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    4 مارچ, 2020

    مرا جنوں مری وحشت بدلتی رہتی ہے

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button