اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

جنون عشق کی منزل وہی ہے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

جنون عشق کی منزل وہی ہے
جہاں ہر آشنا بھی اجنبی ہے

انہی مجبوریوں نے مارا ڈالا
کہ تیری ہر خوشی میری خوشی ہے

ابھی ہے ان کے آنے کی توقع
ابھی راہوں میں کچھ کچھ روشنی ہے

مری بربادیوں کا پوچھنا کیا
تری نظروں کی قیمت بڑھ گئی ہے

جہاں ان کا سوال آیا ہے باقیؔ
وہاں اپنی کمی محسوس کی ہے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button