اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

تیرا احساس پانیوں میں رہے

ناہید ورک کی اردو غزل

تیرا احساس پانیوں میں رہے
بارشوں کی روانیوں میں رہے
ربط تجھ سے نہ کوئی بندھن ہے
اور دل خوش گمانیوں میں رہے
جب وہ میرے نصیب میں ہی نہیں
پھر یہ دل کیوں گرانیوں میں رہے؟
وصل کی داستاں ختم ہوئی
ہجر کی ہم کہانیوں میں رہے!
تُو مقدّر مرا، نصیب مرا
پھر بھی تُو بد گمانیوں میں رہے؟

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button