اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

بے شک گزر رہی ہے مسلسل عذاب میں

ناہید ورک کی اردو غزل

بے شک گزر رہی ہے مسلسل عذاب میں
لیکن عجیب لطف ہے اس اضطراب میں
شامل کبھی نہیں تھی میں تیرے نصاب میں
پر خود کو ڈھونڈتی رہی چاہت کے باب میں
کتنی اُداسیاں تھیں مرے چار سُو بسی
واپس پلٹ گئی مری تعبیر خواب میں
خوابوں کے ڈوب جانے کی اب فکر کیا کریں
جب ڈال بیٹھے کشتیِ دل ہم چناب میں
اُس نے بھی دردِ ہجر مقدر میں لکھ دیا
میں نے بھی بھیج دی ہے جدائی جواب میں

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button