اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا

میر تقی میر کی ایک غزل

کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا
شاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا

ہے ابر کی چادر شفقی جوش سے گل کے
میخانے کے ہاں دیکھیے یہ رنگ ہوا کا

بہتیری گرو جنس کلالوں کے پڑی ہے
کیا ذکر ہے واعظ کے مصلیٰ و ردا کا

مرجائے گا باتوں میں کوئی غمزدہ یوں ہی
ہر لحظہ نہ ہو ممتحن ارباب وفا کا

تدبیر تھی تسکیں کے لیے لوگوں کی ورنہ
معلوم تھا مدت سے ہمیں نفع دوا کا

ہاتھ آئینہ رویوں سے اٹھا بیٹھیں نہ کیونکر
بالعکس اثر پاتے تھے ہم اپنی دعا کا

آنکھ اس کی نہیں آئینے کے سامنے ہوتی
حیرت زدہ ہوں یار کی میں شرم و حیا کا

برسوں سے تو یوں ہے کہ گھٹا جب امنڈ آئی
تب دیدئہ تر سے بھی ہوا ایک جھڑاکا

آنکھ اس سے نہیں اٹھنے کی صاحب نظروں کی
جس خاک پہ ہو گا اثر اس کی کف پا کا

تلوار کے سائے ہی میں کاٹے ہے تو اے میر
کس دل زدہ کو ہوئے ہے یہ ذوق فنا کا

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button